ہوم » نیوز » عالمی منظر

افغانستان میں جاری تشدد کے درمیان طالبان مشروط جنگ بندی پر آمادہ، سات ہزار قیدیوں کو رہا کرسکتی ہے حکومت

افغانستان میں جاری تشدد اور طالبان کے بڑھتے ہوئے دبدبے کے درمیان طالبان نے کچھ شرطوں کے ساتھ تین ماہ کے لئے جنگ بند ی کی پیش کش کی ہے۔ جن میں طالبان کی رہائی اور اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نام حذف کرنے کا شرط شامل ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 16, 2021 01:12 AM IST
  • Share this:
افغانستان میں جاری تشدد کے درمیان طالبان مشروط جنگ بندی پر آمادہ، سات ہزار قیدیوں کو رہا کرسکتی ہے حکومت
افغانستان میں جاری تشدد کے درمیان طالبان مشروط جنگ بندی پر آمادہ، سات ہزار قیدیوں کو رہا کرسکتی ہے حکومت





کابل: افغانستان میں جاری تشدد اور طالبان کے بڑھتے ہوئے دبدبے کے درمیان طالبان نے کچھ شرائط کے ساتھ تین ماہ کے لئے جنگ بند ی کی پیش کش کی ہے، جن میں طالبان کی رہائی اور اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نام حذف کرنے کا شرط شامل ہے۔ افغانستان کے 200 سے زائد اضلاع اور کچھ اہم سرحدی شاہراہوں پر قابض ہونے کے باوجود طالبان نے افغان حکومت کو اہم تجویز پیش کر دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان مذاکرات کار نادری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان نے تین ماہ کی جنگ بندی کا پلان دیا ہے، جس میں وہ چاہتے ہیں کہ افغان حکومت ان کے سات ہزار قیدیوں کو رہا کرے، اس کے علاوہ طالبان رہنماؤں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے ہٹائے جائیں۔ دوسری جانب افغان مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ یہ بڑا مطالبہ ہے، ہم نے پہلے بھی پانچ ہزار طالبان کو رہا کیا، جس سے صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید کشیدہ ہوگئی۔




افغان مذاکرات کار نادری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان نے تین ماہ کی جنگ بندی کا پلان دیا ہے، جس میں وہ چاہتے ہیں کہ افغان حکومت ان کے سات ہزار قیدیوں کو رہا کرے، اس کے علاوہ طالبان رہنماؤں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے ہٹائے جائیں۔
افغان مذاکرات کار نادری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان نے تین ماہ کی جنگ بندی کا پلان دیا ہے، جس میں وہ چاہتے ہیں کہ افغان حکومت ان کے سات ہزار قیدیوں کو رہا کرے، اس کے علاوہ طالبان رہنماؤں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے ہٹائے جائیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کا 85 فیصد سے زائد علاقہ اُن کے زیر اثر آچکا ہے، طالبان کی پیش قدمی اور کارروائیوں کے بعد افغان شہری کابل کا رخ کرنے لگے جبکہ اس لڑائی میں عام شہری کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک روانگی کی کوششیں کررہے ہیں۔






Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 16, 2021 12:00 AM IST