உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں طالبان کی واپسی، کیا پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے؟

    افغانستان میں طالبان کی واپسی، کیا پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے؟

    افغانستان میں طالبان کی واپسی، کیا پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے؟

    Taliban in Afghanistan Threat For Pakistan: سال 2014 کے ضرب عجب آپریشن کے بعد ٹی ٹی پی کی کمرٹوٹ گئی تھی، لیکن اب کے بدلتے حالات میں ٹی ٹی پی کے دوبارہ مضبوط ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی: افغانستان میں طالبان کے اقتدارمیں واپسی پڑوسی ملک پاکستان کے لئے پریشانی بڑھا سکتی ہے۔ افغانستان میں طالبان راج سے کئی مبینہ دہشت گرد تنظیموں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں، جن میں تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی بھی شامل ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم مانا جاتا ہے۔ پاکستان طالبان یعنی ٹی ٹی پی نے سال 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول سمیت کئی بڑے دہشت گردانہ حملوں کو انجام دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے پیچھے بھی ٹی ٹی پی کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔


      مانا جاتا ہے کہ طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرتے وقت کئی جیلوں میں خالی کرایا تھا، جس میں مولوی فقیر احمد سمیت ٹی ٹی پی کے بڑے دہشت گردوں کی رہائی ہوئی تھی۔ سال 2014 کے ضرب عجب آپریشن کے بعد ٹی ٹی پی کی کمر ٹوٹ گئی تھی، لیکن اب کے بدلے حالات میں یعنی افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد ٹی ٹی پی کے دوبارہ مضبوط ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


      پاکستان نے وانٹیڈ ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی فہرست سونپی


      ذرائع کے مطابق، پاکستانی حکومت نے حال ہی میں طالبان کے سب سے بڑے لیڈر ہبت اللہ اخندزادہ کو ٹی ٹی پی سے منسلک موسٹ وانٹیڈ دہشت گردوں کی فہرست سونپی جو اب افغانستان کی زمین سے آپریٹ کرتے ہیں۔ پاکستان حکومت نے افغانستان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ حالانکہ طالبان کے قبضے کے بعد وہ بار بار کہہ چکا ہے کہ افغانستان کی زمین کا استعمال کسی اور ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی طالبانی لیڈر ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں بیان دیا کہ ٹی ٹی پی کا موضوع پاکستان کو خود حل کرنا ہوگا، افغانستان کو نہیں۔


      پاکستان کرسکتا ہے ٹی ٹی پی کیمپ پر حملہ

      پاکستانی حکومت کے ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے سے ٹی ٹی پی اور کمزور ہوگا، مضبوط نہیں۔ ذرائع نے کہا کہ اب وہ ضرورت پڑنے پر پاکستان - افغانستان کی سرحد کے قریب ٹی ٹی پی کے دہشت گردانہ کیمپوں پر حملہ بھی کرسکتے ہیں۔

      ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کو دی مبارکباد

      کابل پر قبضے کے بعد تحریک طالبان پاکستان نے افغان طالبان کو مبارکباد پیش کی تھی۔ ٹی ٹی پی کے امیر نور ولی نے طالبانی لیڈر ہبت اللہ اخند زادہ کو مبارکباد کا پیغام بھیجا، ساتھ ہی اپنی حمایت ظاہر کی۔ مانا جاتا ہے کہ نور ولی کے افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ سے قریبی تعلقات ہیں۔ خبر یہ بھی ہے کہ افغانستان - پاکستان سرحد پر پناہ گزینوں میں ٹی ٹی پی کے مبینہ جنگجو بھی ہوسکتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: