ہوم » نیوز » عالمی منظر

عید الاضحی کے موقع پر طالبان نے 80 قیدیوں کو رہا کیا، افغانستان کے صدر نے طالبان پر بڑا الزام عائدکیا

طالبان نے کہا ہے کہ اس نے عید الاضحی کی تعطیل کے پہلے دن افغانستان کے 8 صوبوں میں 80 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔ ٹی وی۔1 چینل نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 21, 2021 08:23 PM IST
  • Share this:
عید الاضحی کے موقع پر طالبان نے 80 قیدیوں کو رہا کیا، افغانستان کے صدر نے طالبان پر بڑا الزام عائدکیا
عید الاضحی کے موقع پر طالبان نے 80 قیدیوں کو رہا کیا، افغانستان کے صدر نے طالبان پر بڑا الزام عائدکیا

ماسکو: طالبان نے کہا ہے کہ اس نے عید الاضحی کی تعطیل کے پہلے دن افغانستان کے آٹھ صوبوں میں 80 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔ ٹی وی۔1 چینل نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ عسکریت پسند گروپ کے ذریعہ قیدیوں کی رہائی اس وقت سامنے آئی ہے جب اتوار کو دوحہ میں ایک اجلاس کے دوران افغان حکومت اور طالبان عید الاضحی کی چھٹی کے دوران مختصر مدت کی جنگ بندی یا قیدیوں کی رہائی پر اتفاق نہیں کرسکے تھے۔

دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے منگل کو سی این این کو بتایا کہ وہ ایک "پُرامن حل" اور "افغانی جامع اسلامی حکومت" کے خواہاں ہیں۔ واضح رہے کہ ان دنوں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی طالبان کی طرف سے بھی تشدد دیکھا جارہا ہے۔ گزشتہ سال فروری میں دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان فوج کی مکمل واپسی کے لئے معاہدہ ہوا تھا۔




افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا کہ طالبان کی حالیہ سرگرمیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تنظیم کی امن قائم کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اور حکومت اب اسی بنیادپر فیصلہ کرے گی۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا کہ طالبان کی حالیہ سرگرمیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تنظیم کی امن قائم کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اور حکومت اب اسی بنیادپر فیصلہ کرے گی۔

طالبان امن قائم کرنے کاخواہاں نہیں: اشرف غنی


کابل: افغانستان کے صدر اشرف غنی نے منگل کو کہا کہ طالبان کی حالیہ سرگرمیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تنظیم کی امن قائم کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اور حکومت اب اسی بنیادپر فیصلہ کرے گی۔ اشرف غنی نے کہا کہ مذاکرات کے لئے دوحہ میں ایک اعلیٰ عہدے کا وفد بھیجنے کا حکومت کا فیصلہ ایک حتمی شرط (الٹی میٹم) ہے۔ انہوں نے کہا، ’’طالبان نے بہت سی باتیں واضح کی ہیں۔ مسٹرعبداللہ (دوحہ میں حکومت کے وفد کے سربراہ) نے کچھ منٹ پہلے مجھ سے کہا تھا کہ طالبان امن کے لئے بالکل رضامند نہیں ہے۔ ہم نے الٹی میٹم دینے کے لئے وفدبھیجا اوریہ دکھانے کے لئے کہ ہم امن قائم کرناچاہتے ہیں اور ہم اس کے لئے قربانی کے لئے تیارہیں، لیکن ان کی (طالبان) امن برقراررکھنے کی کوئی مرضی نہیں ہے اورہمیں اس کی بنیادپر فیصلہ کرنا چاہئے۔
اشرف غنی نے بتایا کہ حکومت نے 5000 طالبانی قیدیوں کورہاکیا ہے، پھربھی گروپ معنی خیز مذاکرات کے لئے تیارنہیں ہے۔ انہوں نے اس عید کو افغانستانی فوج کی قربانی اورحوصلے کے احترام میں انہیں وقف کیا۔ صدرنے کہا۔’’افغانستان کے سلامتی اوردفاعی فورسز نے گزشتہ 20 برسوں میں خصوصی طورسے گزشتہ تین ماہ میں، اس سرزمین اوراس مادروطن کے وقارکے تحفظ کے لئے کئی قربانیاں دی ہیں۔ غنی نے کہا کہ انہوں نے پچھلے ہفتہ موجودہ صورت حال سے ابرنے کے لئے ’فوری اور عملی منصوبے‘ پرکام کیا۔ انہوں نے افغانوں سے متحد ہونے کی اپیل کی۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 21, 2021 08:23 PM IST