உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان نے کہا-تحریک طالبان پاکستان کا مسئلہ افغانستان کا نہیں، خود حل کرے پاکستان

    طالبان نے کہا-تحریک طالبان پاکستان کا مسئلہ افغانستان کا نہیں، خود حل کرے پاکستان

    طالبان نے کہا-تحریک طالبان پاکستان کا مسئلہ افغانستان کا نہیں، خود حل کرے پاکستان

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جیو نیوزکو انٹرویو دیتے ہوئے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا طالبان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تنازعہ میں نہ پڑے، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ملک کی مستقبل کی حکومت اس پر غور کرے گی‘۔

    • Share this:

      کابل: طالبان نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا مسئلہ افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کی حکومت کو حل کرنا چاہیے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ہفتہ کی شب جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا طالبان ٹی ٹی پی سے بات کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تنازع میں نہ پڑے، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ "ملک کی مستقبل کی حکومت اس پر غور کرے گی۔


      حالانکہ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اصولی موقف یہ ہے کہ ہم کسی اور کے ملک میں امن کو تباہ کرنے کے لئے کسی کو اپنی سرزمین کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ٹی ٹی پی افغان طالبان کو اپنا رہنما سمجھتی ہے تو اسے ان کی بات سننی پڑے گی چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں۔




      طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جیو نیوزکو انٹرویو دیتے ہوئے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا طالبان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تنازعہ میں نہ پڑے، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ملک کی مستقبل کی حکومت اس پر غور کرے گی‘۔
      طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جیو نیوزکو انٹرویو دیتے ہوئے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا طالبان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تنازعہ میں نہ پڑے، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ملک کی مستقبل کی حکومت اس پر غور کرے گی‘۔


      مجاہد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹی ٹی پی کا مسئلہ افغانستان کو نہیں بلکہ حکومت پاکستان کو حل کرنا چاہیے۔ یہ پاکستان اور اس کے علماء اور مذہبی شخصیات پر منحصر ہے۔
      جب افغانستان میں حکومت سازی کے بارے میں پوچھا گیا تو ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں ابھی کوششیں جاری ہیں تاہم کچھ معمولی رکاوٹیں تاخیر کا باعث بن رہی ہیں۔ سب سے پہلے کابل میں اچانک داخل ہونا اور اس طرح حکومت پر قبضہ کرنا غیر متوقع تھا۔ ہم حکومت کے قیام کے حوالے سے ایک جامع بات چیت کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک مضبوط حکومت قائم ہوسکے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: