உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان : کابل ہوائی اڈہ پر افراتفری اور انتشار کیلئے امریکہ ذمہ دار : طالبان

    افغانستان : کابل ہوائی اڈہ پر افراتفری اور انتشار کیلئے امریکہ ذمہ دار : طالبان ۔ تصویر : اے پی ۔

    افغانستان : کابل ہوائی اڈہ پر افراتفری اور انتشار کیلئے امریکہ ذمہ دار : طالبان ۔ تصویر : اے پی ۔

    طالبان نے کہا کہ ہوائی اڈہ پر بگڑتے حالات کیلئے پوری طرح سے امریکہ ہی ذمہ دار ہے ۔ کیونکہ پورے افغانستان میں ہرجگہ امن ہے ، لیکن صرف کابل ہوائی اڈہ ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں انتشار اور افراتفری کا ماحول ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : افغانستان میں طالبان کا قبضہ ہے اور اب پورے ملک میں صرف کابل ہوائی اڈہ ہی ایسی جگہ بچی ہے ، جہاں لوگ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کررہے ہیں ۔ گزشتہ کچھ دنوں میں کابل ایئرپورٹ کے پاس کے حالات بھی خراب ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ کئی مرتبہ طالبان جنگجووں نے ایئرپورٹ کمپلیکس کے پاس اندھادھند گولیاں چلائیں اور لوگوں پر ظلم کیا ۔ امریکی سفارت خانہ نے بھی ہدایت جاری کرکے اپنے شہریوں سے ایئرپورٹ کی طرف نہ آنے کیلئے کہا ہے ۔ اس درمیان طالبان نے کابل ایئرپورٹ پر بگڑتے حالات کیلئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔

      طالبان کے ایک سینئر افسر نے ہوائی اڈہ پر لوگوں کو خالی کرانے کیلئے ذمہ دار امریکہ کو بتایا ہے ۔ طالبان افسر امیر خان نے کہا کہ امریکہ اپنی ساری طاقت اور سیکورٹی فورسیز کے ساتھ سہولیات ہونے کے باوجود ہوائی اڈہ پر نظم و نسق بنائے رکھنے میں ناکام رہا ہے ۔

      طالبان نے کہا کہ ہوائی اڈہ پر بگڑتے حالات کیلئے پوری طرح سے امریکہ ہی ذمہ دار ہے ۔ کیونکہ پورے افغانستان میں ہرجگہ امن ہے ، لیکن صرف کابل ہوائی اڈہ ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں انتشار اور افراتفری کا ماحول ہے ۔

      کابل ایئرپورٹ سے نکلنے کیلئے سڑک کھولنی ضروری : طالبان

      طالبان نے اتوار کے روز کہا کہ یہ ضرورری ہے کہ کابل ایئرپورٹ چھوڑنے والے لوگوں کے لیے اجازت دیتے ہوئے راستہ کھولا جائے۔ جنگجوؤں کے قبضے کے پیش نظر جہاں افغانیوں کی قابل رحم تصاویر ٹرمینل کی جانب بھاگتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہیں ۔ طالبان کے ایک ترجمان نے اسپوتنک کو بتایا کہ کابل ایئرپورٹ چھوڑنے کے لیے روڈ کھولنا لاء اینڈ آرڈر (امن عامہ) کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے ۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ایئرپورٹ آنے اور احاطہ چھوڑنے کے پروسیزر کو آسان کرکے ایئرپورٹ کی صورتحال سے نمٹیں ۔

      صبح خبر رساں ادارہ خامہ نے یہ کہتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی وزارت خارجہ 48 گھنٹے کے لیے ایئرپورٹ کو بند کرے گی ۔ تاکہ جو اندر ہیں انھیں ایئرلفٹ کیا جائے۔

      قابل ذکر ہے کہ 15 اگست کو طالبان کابل میں داخل ہوئے اور جمہوری حکومت کا خاتمہ ہو گیا ۔ صدر اشرف غنی مستعفیٰ یہ کہتے ہوئے ملک سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ انہوں نے خون خرابہ روکنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے ۔ ہزاروں افغان ملک چھوڑ کر جانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ کابل میں حالات بے حد خوفناک ہیں ۔

      نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔ 
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: