உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مجبور باپ کو طالبان جنگجو سے کرانی پڑی 21 سالہ بیٹی کی شادی، پھر پتہ چلا ہر رات لڑکی کے ساتھ کئی لوگ مل کر کرتے ہیں بیحد ہی شرمناک کام

    طالبان چاہتے ہیں کہ ان کے جنگجو ان لڑکیوں سے شادی کریں اور انہیں جنسی غلام بنائیں۔ طالبان اپنے جنگجوؤں کے لیے گھر گھر جاکر 12 سے 15 سال کی لڑکیوں کو اٹھا لے جا رہے ہیں۔

    طالبان چاہتے ہیں کہ ان کے جنگجو ان لڑکیوں سے شادی کریں اور انہیں جنسی غلام بنائیں۔ طالبان اپنے جنگجوؤں کے لیے گھر گھر جاکر 12 سے 15 سال کی لڑکیوں کو اٹھا لے جا رہے ہیں۔

    طالبان چاہتے ہیں کہ ان کے جنگجو ان لڑکیوں سے شادی کریں اور انہیں جنسی غلام بنائیں۔ طالبان اپنے جنگجوؤں کے لیے گھر گھر جاکر 12 سے 15 سال کی لڑکیوں کو اٹھا لے جا رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد چاروں طرف افراتفری کا ماحول ہے۔ بم دھماکے کیے جا رہے ہیں اور گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل یہ اطلاعات تھیں کہ طالبان اپنے جنگجوؤں کے لیے گھر گھر جاکر 12 سے 15 سال کی لڑکیوں کو اٹھا لے جا رہے ہیں۔ طالبان چاہتے ہیں کہ ان کے جنگجو ان لڑکیوں سے شادی کریں اور انہیں جنسی غلام بنائیں۔ اسی درمیان 21 سالہ افغانی سے طالبان کے اجتماعی عصمت دری کی خبریں آرہی ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے لوگوں نے ایک 21 سالہ لڑکی کو شادی کے نام پر لے گئے تھے۔ پھر اس کی ساتھ اجتماعی آبروز ریزی کی گئی۔

      آسٹریلیائی ، امریکی جرنلسٹ ہالی میکے جو عراق، افغانستان، سیریا جیسے علاقوں سے رپورٹنگ کرتی ہیں انہوں نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ طالبان کم عمر کی لڑکیوں کو گھر گھر سے اٹھا رہا ہے۔ اس رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ افغانستان کے بد خسنن گاؤں میں ایک شخص کو اپنی بیٹی کو طالبانی جنگجوؤں کے حوالے کرنے کو کہا گیا تھا۔

      ہولی نے لکھا- 'ہمیں بتایا گیا ہے کہ طالبان گھر گھر جا رہے ہیں اور 12-15 سال کی لڑکیوں کو شادی کے لیے ڈھونڈ رہے ہیں۔ ایک ماہ قبل اس دہشت گرد تنظیم سے وابستہ لوگ گاؤں پہنچے تھے۔ وہ اپنے آپ کو اسلام کا محافظ بتا رہے تھے اور اپنے آپ کو لوگوں کیلئے محافظ بتا رہے تھے۔

      طالبان چاہتے ہیں کہ ان کے جنگجو ان لڑکیوں سے شادی کریں اور انہیں جنسی غلام بنائیں


      اس گاؤں میں جانے کے بعد طالبان نے ایک شخص سے کہا تھا کہ وہ اپنی 21 سالہ بیٹی کو طالبان مسجد کے امام کے حوالے کرے۔ اس نے کہا تھا کہ وہ شادی کرنا چاہتا ہے اور اس شخص کو اس کے لیے کچھ انتظام کرنا پڑے گا۔ یہ سننے کے بعد وہ شخص اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لیے ضلعی گورنر کے پاس گیا۔ لیکن وہاں سے مایوسی ہاتھ لگی۔

      ضلعی گورنر نے کہا کہ بیٹی کے لیے جو کچھ بھی کرنا ہے ، اسے خود کرنا پڑے گا۔ بالآخر  ہار کر  اس شخص کو مجبورا اپنی بیٹی کی شادی ایک طالبان جنگجو سے کرانی پڑی۔ اس شخص کو اپنی بیٹی کی شادی کے تین دن بعد پتہ چلا کہ چار پانچ لوگ ہر رات اس کی بیٹی کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: