உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر کو لے کر طالبان کے ترجمان نے کہا : مسلمان ہونے کی وجہ سے آواز اٹھانے کا ہمیں حق ہے

    کشمیر کو لے کر طالبان کے ترجمان نے کہا : مسلمان ہونے کی وجہ سے آواز اٹھانے کا ہمیں حق ہے

    کشمیر کو لے کر طالبان کے ترجمان نے کہا : مسلمان ہونے کی وجہ سے آواز اٹھانے کا ہمیں حق ہے

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہندوستان کے کشمیر میں یا کسی بھی دوسرے ملک میں مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے کا حق ان کے پاس ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل : افغانستان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد طالبان مسلسل ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی بات کررہا ہے ۔ حالانکہ طالبان کشمیر پر بیان دینے سے باز نہیں آرہا ہے ۔ جمعرات کو طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہندوستان کے کشمیر میں یا کسی بھی دوسرے ملک میں مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے کا حق ان کے پاس ہے ۔

      بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم کا ارادہ کسی بھی ملک کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے کا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آواز اٹھائیں گے اور کہیں گے کہ مسلمان آپ کے لوگ ہیں ، اپنے ملک کے شہری ہیں ۔ آپ کے قانون کے مطابق وہ برابر ہیں ۔ اس سے پہلے طالبان کے بڑے ترجمانوں میں شمار ذبیح اللہ مجاہد نے بھی کشمیر کو لے کر اپنی تنظیم کا موقف پیش کیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کے معاملہ میں ہندوستان کو اپنا رویہ مثبت کرنا چاہئے ۔

      اس سے پہلے طالبان کے لیڈر انس حقانی نے نیوز 18 انڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کشمیر اور ہندوستان کے تئیں طالبان کے رخ کو واضح کیا تھا ۔ حقانی نے کہا کہ تھا کہ کشمیر ہمارے دائرہ اختیار کا حصہ نہیں ہے اور اس معاملہ میں دخل دینا پالیسی کے خلاف ہے ۔ ہم اپنی پالیسی کے خلاف کیسے جاسکتے ہیں؟ واضح ہے کہ ہم مداخلت نہیں کریں گے ۔

      افغانستان میں پھنسے ہندوستانیوں کو لے کر حقانی نے کہا کہ میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں سبھی محفوظ ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: