உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قندھار پر قبضے کے بعد کابل سے قریب پہنچا طالبان، نئے امن معاہدے کی تیاری... صدر اشرف غنی دیں گے استعفیٰ؟

    الجزیرہ کے مطابق، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت جو بہت تیزی سے ملک پر اپنی گرفت کھوتی جا رہی ہے وہ کسی بھی صورت میں تشدد کو روکنے کے حق میں ہے۔ اسی کے سبب انہوں نے اقتدار شیئر کرنے کی تجویز کی پیشکش کی ہے۔ حالانکہ طالبان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت جو بہت تیزی سے ملک پر اپنی گرفت کھوتی جا رہی ہے وہ کسی بھی صورت میں تشدد کو روکنے کے حق میں ہے۔ اسی کے سبب انہوں نے اقتدار شیئر کرنے کی تجویز کی پیشکش کی ہے۔ حالانکہ طالبان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت جو بہت تیزی سے ملک پر اپنی گرفت کھوتی جا رہی ہے وہ کسی بھی صورت میں تشدد کو روکنے کے حق میں ہے۔ اسی کے سبب انہوں نے اقتدار شیئر کرنے کی تجویز کی پیشکش کی ہے۔ حالانکہ طالبان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: اقتدار شیئر کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے طالبان نے افغانستان (Afganistan) کے صوبوں پر بم برسانا جاری رکھا ہے اور وہ کابل سے محض 80 کلو میٹر کی دوری پر موجود ہے۔ امن مذاکراتی کمیٹی نیا مسودہ تیار کرنے میں مصروف ہوئی ہے، جس میں صدر اشرف غنی کی حکومت کی پوری طرح سے بے دخلی ہوسکتی ہے۔ سی این این - نیوز 18 (CNN-News18) کو اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے خبر ملی ہے کہ افغانستان میں جنگ بندی کے لئے جس نئے فارمولے پر کام ہو رہا ہے، اس کے تحت اشرف غنی انتظامیہ کو پیچھے ہٹنا ہوگا۔

      طالبان، فوجی افسران اور کچھ موجودہ نمائندوں کے ساتھ عبوری حکومت بنائی جائے گی۔ تمام تبادلہ خیال کے بعد یہ فارمولہ سبھی متعلقہ جماعتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ چونکہ یہ ابھی ابتدائی سطح پر ہے، اس لئے منصوبہ کسی بھی شراکت دار کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی ہے، چاہے پھر وہ افغان حکومت ہو یا پھر طالبان۔

      الجزیرہ نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ افغان صلح کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ طالبان نے امن مذاکرات سے متعلق کسی طرح کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ سیاسی حل نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے ذریعہ سیاسی حل پر پہنچنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ثالثی بھی طے کیا ہے۔ یہ بات افغانستان حکومت کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ امن وامان والی حکومت قائم کرنے کے بدلے میں اقتدا شیئر کرنے کی تجویز دینے کے بعد باہر نکل کر آئی۔

      طالبان کے سیاسی دفاتر کے ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ ان کا گروپ دوحہ میں بات چیت کے راستے کے لئے پابند عہد ہے اور وہ اسے توڑنا نہیں چاہتا ہے۔
      طالبان کے سیاسی دفاتر کے ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ ان کا گروپ دوحہ میں بات چیت کے راستے کے لئے پابند عہد ہے اور وہ اسے توڑنا نہیں چاہتا ہے۔


      طالبان نے اقتدار کی تجویز کو مسترد کر دیا

      الجزیرہ کے مطابق، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت جو بہت تیزی سے ملک پر اپنی گرفت کھوتی جا رہی ہے وہ کسی بھی صورت میں تشدد کو روکنے کے حق میں ہے۔ اسی کے سبب انہوں نے اقتدار شیئر کرنے کی تجویز کی پیشکش کردی ہے۔ حالانکہ طالبان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ طالبان کے سیاسی دفاتر کے ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ ان کا گروپ دوحہ میں بات چیت کے راستے کے لئے پابند عہد ہے اور وہ اسے توڑنا نہیں چاہتا ہے۔

      حکومت نے ثالثی کے اصولوں کو خارج کیا

      وہیں دوحہ مذاکرات میں افغان حکومت کے وفد کے ایک رکن نے بھی قطر کے ایک چینل پر کہا کہ حکومت بات چیت میں پارٹیوں کی سنجیدگی کو مقرر کرنے کے لئے ثالثی مقرر کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، طالبان کے ترجمان نے کہا کہ یہ حکومت ہی تھی، جس نے ثالثی کے اصولوں کو مسترد کر دیا تھا۔ ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ زمینی حقیقت کا صحیح اندازہ کریں۔ افغان حکومت کے وفد کے رکن نے الجزیرہ کو بتایا کہ طالبان کی بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ تشدد کے ذریعہ ہی اپنا مقصد پورا کرنا چاہتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو طالبان پر سنجیدگی دکھانے کا دباو بنانا چاہئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: