உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ گیا، غیرملکی مدد بند، اب طالبان کے سامنے ٹوٹا ہوا ملک چلانے کا چیلنج

    امریکہ گیا، غیرملکی مدد بند، اب طالبان کے سامنے ٹوٹا ہوا ملک چلانے کا چیلنج

    امریکہ گیا، غیرملکی مدد بند، اب طالبان کے سامنے ٹوٹا ہوا ملک چلانے کا چیلنج

    افغانستان کوغیرملکی مدد (Foreign Aid) ملنی پوری طرح بند ہوچکی ہے۔ طالبان اب حکومت بنائے گی تو اسے آئندہ ماہ سے اپنے ملازمین کی تنخواہ سمیت دیگر کئی موضوعات میں بڑی رقم خرچ کرنی ہوگی۔ طالبان کے سامنے یہ بڑا چیلنج ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: امریکہ کے افغانستان (Afghanistan) سے پوری طرح واپس جانے کے بعد طالبان (Taliban) نے خوشیاں منائی ہیں۔ شدت پسند تنظیم نے اسے مکمل آزادی قرار دیا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ افغانستان کو غیرملکی مدد ملنا پوری طرح بند ہوچکا ہے۔ طالبان اب حکومت بنائے گا تو اسے آئندہ ماہ سے اپنے ملازمین کی تنخواہ سمیت دیگر کئی موضوعات میں بڑی رقم خرچ کرنی ہوگی۔ طالبان کے سامنے یہ بڑا چیلنج ہے۔

      مانا جا رہا ہے کہ طالبان جلد ہی نئی حکومت کا اعلان کرسکتا ہے، لیکن ابھی جو بھی حکومت بنے گی، وہ عبوری ہوگی۔ پاکستانی حکومت تشکیل میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ اس درمیان پاکستان اب دنیا کے سامنے طالبان کی حمایت میں کھل کر اتر آیا ہے۔ اس کی ایک مثال پیر کو پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے ایک بیان میں دکھائی دی ہے۔ حالانکہ اس بیان سے اب وہ پلٹ چکے ہیں۔

      دی سنڈے ٹائمس کو دیئے ایک انٹرویو میں معید یوسف نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کی نئی لیڈرشپ کو منظوری نہیں دی جاتی تو مغربی ملک 9/11 جیسا حملہ ایک بار پھر جھیل سکتے ہیں۔ دراصل سنڈے ٹائمس کا انٹرویو ہی اسی تھیم پر تھا کہ کیا مغربی ممالک میں ایک اور 9/11 جیسے حملے کا خدشہ ہے۔ اس پر معید یوسف نے مغربی ممالک کو وارننگ دے ڈالی۔

      ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل کے لئے پوری دنیا ہماری مدد کرے: ذرائع

      ذرائع کے مطابق، طالبان کا کہنا ہےکہ حکومت بنانے کو لے کر غوروخوض اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل کے لئے پوری دنیا ہماری مدد کرے‘۔ پاکستان کے وزیر خارجہ محمود قریشی نے بھی کہا ہے کہ افغانستان میں وسیع تبادلہ خیال کے بعد حکومت بنے گی۔

      جنگ زدہ ملک کی ٹوٹی ہوئی معیشت کی تعمیر نو کا چیلنج

      طالبان کے سامنے اس وقت جنگ بندی ملک کی ٹوٹی ہوئی معیشت کو کھڑا کرنے کا چیلنج ہے۔ اس بارشدت پسند تنظیم کے سامنے یہ وعدے بھی کرتا رہا ہے کہ وہ اس کی شکل پہلے کی طرح سخت نہیں ہوگی۔ خواتین کی تعلیم اور کام کاج کو لے کر بھی نرمی برتنے کی بات کہی گئی ہے۔ اب امریکہ کے جانے کے بعد سب کا نگاہیں طالبان پرلگی ہوئی ہیں کہ وہ آخر کیسے ملک چلائے گا۔ کیونکہ اب ملک پر اس کی یکطرفہ حکمرانی ہوگئی ہے۔ اس بات پر بھی دنیا کی نگاہیں رہیں گی کہ کیا وہ باہر جانے کے خواہاں افغانی لوگوں کو چھوٹ دے گا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: