உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    صدر کووند اور وزیر اعظم مودی سے لے کر صنعت کاروں۔ صحافیوں تک، ان سبھی کی نگرانی کر رہا چین: رپورٹ

    صدر کووند اور وزیر اعظم مودی سے لے کر صنعت کاروں۔ صحافیوں تک، ان سبھی کی نگرانی کر رہا چین

    صدر کووند اور وزیر اعظم مودی سے لے کر صنعت کاروں۔ صحافیوں تک، ان سبھی کی نگرانی کر رہا چین

    زنہوا ڈیٹا انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی لمٹیڈ کی طرف سے ان لوگوں کی رئیل ٹائم نگرانی ہو رہی ہے۔ نگرانی میں ان لوگوں سے جڑی ہر چھوٹی سے چھوٹی جانکاری کو شامل کیا جا رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ چین کی حکومت اور چین کی کمیونسٹ پارٹی (Chinese Communist Party) سے منسلک ایک بڑی ڈیٹا کمپنی کم سے کم 10 ہزار ہندستانیوں کے رئیل ٹائم ڈیٹا (Real Time Data) کی نگرانی کر رہی ہے۔ اس میں صدر رام ناتھ کووند (President Ram Nath Kovind)، وزیر اعظم نریندر مودی (Prime Minister Narendra Modi)، اپوزیشن کی بڑی لیڈر سونیا گاندھی اور ان کا کنبہ، مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلی، عدلیہ سے لے کر کاروباری دنیا کی بڑی ہستیاں اور یہاں تک کہ میڈیا سے وابستہ لوگ بھی شامل ہیں۔ فہرست میں کئی مجرمین اور ملزمین کا نام بھی شامل ہے۔ انگریزی ویب سائٹ ' انڈین ایکسپریس' کی ایک رپورٹ میں یہ جانکاری دی گئی ہے۔

      انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، یہ کمپنی ہائی برڈ وارفیئر (Hybrid Warfare) اور چینی ملک کی توسیع کے لئے بگ ڈیٹا کے استعمال میں خود کو سب سے بہتر بتاتی ہے۔ زنہوا ڈیٹا انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی لمٹیڈ کی طرف سے ان لوگوں کی رئیل ٹائم نگرانی ہو رہی ہے۔ نگرانی میں ان لوگوں سے جڑی ہر چھوٹی سے چھوٹی جانکاری کو شامل کیا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کی نگرانی کی جا رہی ہے، ان میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک کا نام بھی شامل ہے۔

      ان کابینی وزرا پر رکھی جا رہی ہے نظر


       کچھ کابینی وزرا کا رئیل ٹائم ڈیٹا بھی چین کی نظر میں ہے۔ ان میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، کپڑا کی وزیر اسمرتی ایرانی، ریل اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل اور وزیر قانون روی شنکر پرساد کا نام بھی شامل ہے۔ وہیں، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سے لے کر تینوں افواج کے کم سے کم 15 سابق سربراہوں کا نام بھی اس فہرست میں ہے۔

      ججوں اور صنعت کاروں پر بھی ہے چین کی نظر


      یہی نہیں، رپورٹ کے مطابق، چین کی نظر عدلیہ پر بھی ہے۔ ہندستان کے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، ان کے ساتھی جج ایم ایم کھانولکر سے لے کر لوک پال جسٹس پی سی گھوش بھی چین کی ٹارگٹ فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔ چین نے اس کے ساتھ ہی کچھ معروف صنعت کاروں پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس میں اجے تریہن سے لے کر رتن ٹاٹا اور گوتم اڈانی جیسے صنعت کاروں کا نام ہے۔

       

      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: