ہوم » نیوز » عالمی منظر

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بڑھی کشیدگی ، جھڑپ میں 163فلسطینی شہری جبکہ 6 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ، اقوام متحدہ نے دیا انتباہ

Palestine - Israel Tension : اقوام متحدہ سمیت متعدد ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اقوام متحدہ نے اسرائيل پر زور ديا ہے کہ مشرقی يروشلم ميں مقبوضہ علاقوں سے فلسطينيوں کی جبری بے دخلی بند کی جائے۔

  • Share this:
فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بڑھی کشیدگی ، جھڑپ میں 163فلسطینی شہری جبکہ 6 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ، اقوام متحدہ نے دیا انتباہ
فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بڑھی کشیدگی ، جھڑپ میں 163فلسطینی شہری جبکہ 6 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ، اقوام متحدہ نے دیا انتباہ ۔ تصویر : REUTERS

یروشلم : مسجد اقصی میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپ میں ڈیڑھ سو سے زیادہ فلسطینی شہری اور چھ سے زیادہ اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے ہیں ۔ گزشتہ روز ہوئی اس جھڑپ پر اقوام متحدہ سمیت متعدد ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اقوام متحدہ نے اسرائيل پر زور ديا ہے کہ مشرقی يروشلم ميں مقبوضہ علاقوں سے فلسطينيوں کی جبری بے دخلی بند کی جائے۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئی۔ اسرائیلی فوج نے وہاں پرموجود فلسطینی شہریوں اور روزہ داروں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا جس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی ۔


بی بی سی نے فلسطینی میڈیکل اور اسرائیلی پولیس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس جھڑپ میں 163 فلسطینی شہری جبکہ چھ اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے ربر کی گولیاں اور اسٹین گرینیڈ داغے جبکہ فلسطینی شہری پتھر اور بوتلیں پھینک رہے تھے ۔ زخمیوں کے علاج و معالجہ کیلئے ریڈ کراس نے علاقہ میں ایک فیلڈ اسپتال قائم کیا ہے ۔


دریں اثنا رات گئے ہونے والی جھڑپوں کے دوران 15 فلسطينيوں کو حراست ميں لے ليا گيا۔ مغربی کنارے ميں بارڈر پوليس کے ايک چيک پوائنٹ پر حملہ کرنے والے دو فلسطينيوں کو پوليس نے جوابی کارروائی ميں ہلاک بھی کر ديا، اور اب بھی اس علاقہ میں کشیدگی برقرار ہے۔

اقوام متحدہ کا اسرائیل کو انتباہ

ادھر اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین جاری تنازع کے جلو میں اقوام متحدہ نے اسرائيل پر زور ديا ہے کہ مشرقی يروشلم ميں مقبوضہ علاقوں سے فلسطينيوں کی جبری بے دخلی بند کی جائے ۔ اقوام متحدہ نے خبردار کيا ہے کہ يہ اقدام جنگی جرائم کے زمرے ميں بھی آ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان روپرٹ کولول نے جمعہ کو جنيوا ميں يہ بيان ديا۔

یوروپی یونین کا اسرائيل سے آباد کاری کی پاليسی ترک کرنے مطالبہ

دریں اثنا يوروپی ممالک نے اسرائيل پر زور ديا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے ميں يہودی آباد کاری کا عمل روک ديا جائے۔ اس حوالہ سے فرانس، برطانيہ، جرمنی، اٹلی اور اسپين کی جانب سے جمعرات کی شب ايک مشترکہ بيان جاری کيا گيا ، جس ميں ’ہر ہوما ای‘ نامی علاقہ ميں قريب ساڑھے پانچ سو مکانات کی تعمير کے منصوبے کو ترک کرنے سميت آباد کاری کی پاليسی سے پيچھے ہٹنے کا مطالبہ کيا گيا ہے۔

ان يوروپی ممالک نے يہ بيان مشرقی يروشلم ميں بڑھتی ہوئی کشيدگی کے تناظر ميں ديا ہے۔ ان دنوں اس علاقے ميں ايک کيس کی سماعت جاری ہے، جس ميں امکان ہے کہ شيخ جرح نامی علاقے سے فلسطينی خاندانوں کو بے دخل کر ديا جائے، حالانکہ ان خاندانوں نے عدالت کو اراضی کے دستاویز بھی پیش کئے ہیں۔

نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔ 
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 08, 2021 05:51 PM IST