உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Afghanistan Crisis: افغانستان میں خطرناک ہوئے حالات، ہوا میں اڑتے طیارے سے لوگ نیچے گرگئے

    افغانستان (Afghanistan Crisis) میں طالبان (Taliban) کا قبضہ ہونے کے بعد حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں۔ ایسے میں لوگ جلد از جلد ملک چھوڑ کر جانا چاہ رہے ہیں۔ اس درمیان ایک ویڈیو سامنے آیا ہے، جس میں لوگ ہوائی جہاز میں لٹک کر جا رہے تھے۔

    افغانستان (Afghanistan Crisis) میں طالبان (Taliban) کا قبضہ ہونے کے بعد حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں۔ ایسے میں لوگ جلد از جلد ملک چھوڑ کر جانا چاہ رہے ہیں۔ اس درمیان ایک ویڈیو سامنے آیا ہے، جس میں لوگ ہوائی جہاز میں لٹک کر جا رہے تھے۔

    افغانستان (Afghanistan Crisis) میں طالبان (Taliban) کا قبضہ ہونے کے بعد حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں۔ ایسے میں لوگ جلد از جلد ملک چھوڑ کر جانا چاہ رہے ہیں۔ اس درمیان ایک ویڈیو سامنے آیا ہے، جس میں لوگ ہوائی جہاز میں لٹک کر جا رہے تھے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan Crisis) میں طالبان (Taliban) کا قبضہ ہونے کے بعد حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں۔ ایسے میں لوگ جلد از جلد ملک چھوڑ کر جانا چاہ رہے ہیں۔ اس درمیان ایک ویڈیو سامنے آیا ہے، جس میں لوگ ہوائی جہاز میں لٹک کر جا رہے تھے۔ طیارہ کے ہوا میں پہنچتے ہی وہ گر گئے۔ بتایا گیا کہ یہ لوگ  C-17 طیارہ پر لٹک کر جانا چاہ رہے تھے۔ طیارہ کے ہوا میں پہنچتے ہی کابل ہوائی اڈے کے پاس ہی یہ گر گئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، اس طیارہ سے دور لوگ گرے۔ دونوں لوگ رہائشی علاقے میں گرے۔ خبر لکھے جانے تک ان کی شناخت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل پائی ہے۔

      اسواکا نیوز ایجنسی کے مطابق، ’کابل ایئر پورٹ کے پاس مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ایک ہوائی جہاز کے ٹائروں مییں خود کو کس کر پکڑے ہوئے تین نوجوان لوگوں کے گھروں پر گرگئے۔ مقامی لوگوں میں سے ایک نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ ان لوگوں کے گرنے سے کافی تیز اور خوفناک شور ہوا۔ واضح رہے کہ اتوار کو کابل میں طالبان کے داخل ہونے سے پہلے ہی صدر اشرف غنی نے ملک چھوڑ دیا، جس کے بعد افغانستان کے مستقبل کو لے کر غیر یقینی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔

      ایئر انڈیا نے کابل کی واحد پرواز منسوخ کردی

      دوسری جانب، ایئر انڈیا نے پیر کے روز پہلے سے طے شدہ اپنی دہلی - کابل پرواز منسوخ کر دی۔ تاکہ افغانستان کے ہوائی علاقے سے بچا جاسکے۔ کمپنی نے یہ قدم کابل ہوائی اڈے کے افسران کے ذریعہ ’بے قابو‘ ڈکلیئر کئے جانے کے بعد اٹھایا۔ سینئر افسران نے یہ اطلاع دی۔ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان پیر کو مقررہ یہ واحد تجارتی پرواز تھی اور ایئر انڈیا واحد پرواز کمپنی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طیارہ کی آپریٹنگ کر رہی ہے۔

      محکمہ خارجہ اور وزارت دفاع کا مشترکہ بیان

      محکمہ خارجہ اور وزارت دفاع کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا، ’فی الحال ہم حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی حفاظت کے لئے دیگر اقدامات کر رہے ہیں تاکہ فوجی اور غیر فوجی طیاروں کے ذریعہ امریکی لوگ اور ان کے معاونین افغانستان سے محفوظ نکل سکیں‘۔ اس میں کہا گیا، ’آئندہ 48 گھنٹوں میں، تقریباً 6000 سیکورٹی اہلکاروں کو وہاں تعینات کیا جائے گا۔ ان کا مشن لوگوں کو وہاں سے محفوظ نکالنے میں مدد دینا ہوگا اور وہ ہوائی نقل وحمل کنٹرول کو بھی اپنے قبضے میں لیں گے۔ کل اور آنے والے دنوں میں ہم ملک سے ہزاروں امریکی شہریوں، کابل میں امریکی مشن پر تعینات مقامی لوگوں اور ان کی فیملی کو نکالیں گے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں خصوصی ویزا ہولڈر تقریباً 2,000 لوگ کابل سے امریکہ پہنچ چکے ہیں۔


      Published by:Nisar Ahmad
      First published: