உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں داخلہ لینے والا ہندوستانی طالب علم حزب المجاہدین کے لئے کرتا تھا کام

    پاکستان میں داخلہ لینے والا ہندوستانی طالب علم حزب المجاہدین کے لئے کرتا تھا کام

    پاکستان میں داخلہ لینے والا ہندوستانی طالب علم حزب المجاہدین کے لئے کرتا تھا کام

    Indian Student Pakistan College: افسران نے کہا کہ آصف شبیر نائک کو اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ماس کمیونیکیشن طالب علم کے طور پر دکھایا گیا، لیکن حقیقت میں وہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کی میڈیا یونٹ میں کام کر رہا تھا۔

    • Share this:
      سری نگر: جموں وکشمیر پولیس کی اکائی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے ایک پاکستانی یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے ہندوستانی طالب علم اور اس کے والد سمیت تین لوگوں کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے اور فوج کے اداروں کے بارے میں سرحد پار جانکاری پہنچانے کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ افسران نے کہا کہ نوجوانوں کو دہشت گردانہ گروپوں میں داخل کرنے کے لئے پاکستان کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم کا غلط استعمال کئے جانے کی یہ ایک اور مثال ہے۔

      انہوں نے کہا کہ پڑھائی کے لئے پاکستان گئے ایسے 17 نوجوان پہلے ہی کنٹرول لائن پر کشمیر میں دراندازی کرتے ہوئے یا سیکورٹی اہلکاروں کی دہشت گردانہ تنظیموں کے ساتھ تصادم کے دوران مارے جاچکے ہیں۔ افسران نے بتایا کہ دہشت گردی مخالف قانون کی مختلف دفعات کے تحت ڈوڈا کے کشتی گڑھ باشندہ آصف شبیر نائیک، اس کے والد شبیر حسین نائک اور صفدر حسین کے خلاف چارج شیٹ داخل کیا گیا ہے، جن میں سے شبیر اور صفدر اس وقت پاکستان میں ہیں۔

      ’پاکستانی عدالت سے رابطہ کیا جائے گا‘

      ایس آئی اے نے درخواستی خط کا قانونی ذریعہ بھی استعمال کیا ہے، جس میں قابل ہندوستانی عدالت کے ذریعہ پاکستانی عدالت سے رابطہ کیا جائے گا اور ملزمان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں پاکستان کی مدد طلب کی جائے گی۔ ایجنسی کے ایک سینئر اہلکار نے کہا، "گرچہ مثبت جواب کے امکانات کم ہوں، ایس آئی اے کوئی قانونی کسر نہیں چھوڑے گا۔"

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: