உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں دہشت گردانہ حملہ: مرنے والوں میں اقوام متحدہ کا عملہ بھی شامل

    افغان پولیس اہلکار : فائل فوٹو : رائٹرز۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان عطااللہ خوقيانی نے کہا کہ کئی گھنٹوں تک بندوق کی گولیوں اور دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      کابل۔ افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں خودکش حملہ آوروں کے ذریعہ ایک سرکاری عمارت کے گیٹ پر خود کو بم سے اڑا لینے کے واقعہ میں مارے گئے 15 لوگو ں میں اقوام متحدہ مائیگریشن ایجنسی کا ایک عملہ بھی شامل ہے۔ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے واقعہ کی ذمہ داری لی ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ مشن نے بتایا کہ اس واقعہ میں22سالہ ماری گير لڑکی تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم سے جڑی ہوئی تھی۔ تین سال پہلے ہی ایک بم حملے میں اس نے اپنا شوہر کھو دیا تھا ۔ اس کے گھر میں صرف چھ سالہ بیٹی بچی ہے۔ مشن نے کہا’’وہ ان ہزاروں افغانوں میں سے ایک تھیں جو ملک میں اقوام متحدہ کے یومیہ کے کاموں کیلئے ریڑھ کی جیسی حیثیت رکھتی تھیں‘‘۔


      صوبائی حکومت کے ترجمان عطااللہ خوقيانی نے کہا کہ کئی گھنٹوں تک بندوق کی گولیوں اور دھماکوں کی آواز سنی گئی۔ یہ واقعہ دو مسلح افراد کے مارے جانے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ۔ اس حملہ میں عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملے میں کم از کم 15 افراد کی موت ہو گئی اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہو ئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ جائے حادثہ پر امدادی کام جاری ہے۔


      ایک عینی شاہد نے بتایا کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایک گاڑی میں بیٹھے تین افراد پناہ گزین امور کے محکمہ کی طرف سے استعمال کی جانے والی عمارت کے دروازے پر پہنچے اور ایک مسلح شخص نے اتر کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ ایک اور حملہ آور نے مین گیٹ کے سامنے اپنے آپ کو بم سے اڑا لیا۔ دو دیگر مسلح شخص عمارت کے اندر گھس گئے۔ اس کے بعد کار میں زبردست دھماکہ ہوا۔


      بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کے انسانی گروپ کا ایک عملہ بھی اس واقعہ میں مارا گیا۔ آئی اے ایس نے کہا کہ اس کے دو دہشت گردوں نے بین الاقوامی ایجنسیوں کی ایک میٹنگ کو نشانہ بنانے کے لئے حملے کئے جس میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہو گئے۔ افغانستان میں تعینات اقوام متحدہ کے افسر ’تاداميچي ياماموتو‘نے شہریوں پر اس’نفرت انگیز حملے‘ کی سخت مذمت کی ہے اور کہا کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔

      First published: