உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پیرس حملوں کا ملزم آخرکار بروسلز میں پکڑا گیا

    بروسلز ۔  نومبر میں پیرس میں اسلامی مملکت کےحملوں کی تفتیش کرنے والوں کو اس وقت بڑی کامیابی ہاتھ لگی جب انہوں نے یہاں ایک تصادم کے دوران مطلوبہ ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    بروسلز ۔ نومبر میں پیرس میں اسلامی مملکت کےحملوں کی تفتیش کرنے والوں کو اس وقت بڑی کامیابی ہاتھ لگی جب انہوں نے یہاں ایک تصادم کے دوران مطلوبہ ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    بروسلز ۔ نومبر میں پیرس میں اسلامی مملکت کےحملوں کی تفتیش کرنے والوں کو اس وقت بڑی کامیابی ہاتھ لگی جب انہوں نے یہاں ایک تصادم کے دوران مطلوبہ ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      بروسلز ۔  نومبر میں پیرس میں اسلامی مملکت کےحملوں کی تفتیش کرنے والوں کو اس وقت بڑی کامیابی ہاتھ لگی جب انہوں نے یہاں ایک تصادم کے دوران مطلوبہ ملزم کو گرفتار کرلیا۔ 26 سالہ صالح عبدالسلام کو یوروپ میں سب سے مطلوب شخص قرار دیا گیا ۔ اس کیس میں یہ پہلا مشتبہ ہے جسے زندہ پکڑا گیا ہے اسے معمولی زخمی ہونے کی وجہ سے اسپتال میں رکھا گیا ہے۔ بیلجیم کے وزیر اعظم چارلس مائیکل نے فرانسیسی صدر فرانزداں ہولانہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے اس کے پکڑے جانے کا اعلان کیا ہے۔ مسٹر مائیکل نے کہا جمہوریت کی لڑائی میں یہ بہت اہم نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر براک اوباما نے فون کرکے دونوں رہنماؤں کو مبارکباد دی ہے۔ بیلجیم کے ایک وزیر نے یہ ٹوئیٹ کرکے انکشاف کیا ’’ہم نے اسے پکڑلیا ہے‘‘۔


      ایک اور دیگر مطلوبہ شخص بھی زخمی ہوکر پکڑا گیا ہے جو امین شوکری نام استعمال کیا کرتا تھا۔ یہ بھی مولن بیک میں عبدالسلام کے مکان پر مارے گئے چھاپے کے دوران پکڑ ا گیا۔ تین روز قبل ایک خونریز چھاپے کے بعد پائے گئے پاسپورٹ اور انگلیوں کے نشانات ملنے کے بعد اس مکان پر چھاپہ مارنے کا منصوبہ بنایا گیا مگر بہت جلد بازی میں ایسا کرنا پڑا۔ کیونکہ میڈیا نے یہ خبر افشا کردی تھی کہ پولیس کوعبدالسلام کا سراغ مل گیا تھا۔ ہولاندے نے اعلان کیا کہ فرانس اس کی حوالگی کی درخواست کرے گا ۔ یہ شخص 13 نومبر کی رات یقینی طور سے پیرس میں موجود تھا۔ اس حملہ میں 130 افراد مارے گئے تھے۔
      عبدالسلام کا بڑا بھائی بروسلیز کے ایک مے خانے میں کام کرتا تھا وہ چھوٹے چھوٹے جرائم بھی کیا کرتا تھا۔ اس نے حملہ کی شب پیرس کے ایک کیفے کے باہر خود کو اڑا دیا تھا۔
      ہولاندے نے کہا کہ ان ہلاکتوں میں چھوٹے بھائی کا رول واضح نہیں ہے مگر یہ معلوم ہے کہ اس نے شامی گروپ کو اس کی منصوبہ بندی میں یقیناً مدد دی تھی۔


      چونکہ تمام قابل شناخت حملہ آور مارے جاچکے ہیں اس لئے عبدالسلام کا زندہ پکڑا جانا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے فرانس کو سب پتہ چل جائے گا کہ حقیقتاًً کیا اور کیسے ہوا تھا۔
      ہولاند نے کہا کہ یہ بات اب واضح ہوچکی ہے کہ پیرس کے اسٹیڈیم ، شراب خانوں کنسرٹ ہال اور کیفوں پر ہوئے حملوں میں اس سے کہیں زیادہ لوگ ملوث ہیں جیسا کہ پہلے سوچا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خطرہ اب بھی ہے ۔ فکر اب بھی لاحق ہے ٹی و ی پر دکھایا گیا تھا کہ سیکورٹی والے ایک شخص کو عمارت سے باہر گھسیٹ کر کار کی طرف لارہے ہیں اس کا سر ڈھکا ہوا تھا ۔ اس سے پہلے عبدالسلام کے مکان کے آس پاس گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ مولن بیک میں مراقشی نسل کے مسلم مہاجر کافی تعداد میں آباد ہیں۔
      گرفتاری کے بعد بھی دو دھماکے سنے گئے ۔ عبدالسلام کئی ماہ تک روپوش رہا کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ بیلجیم میں تھا یاکسی طرح شام بھاگ گیا تھا۔


      خفیہ ایجنسیاں عبدالسلام سے اسلامی مملکت کے منصوبوں اور اس کے ڈھانچہ کے بارے میں معلومات حاصل کریں گی اور یہ بھی کہ یوروپ اور شام میں ان کے کس کس سے رابطہ ہیں ۔ کون ان کی مدد کرتا ہے اور کون پیشہ دیتا ہے۔ پچھلے چار ماہ کے دوران فرانس اوربیلجیم نے خاص ملزم سے تعلق رکھنے والے کئی لوگوں کو حراست میں لیا ہے مگر ان میں سے کسی کا بھی کوئی خاص رول نہیں تھا۔ دونوں مطلوبہ ملزمان کے ساتھ تین دیگر افراد کو بھی پکڑا گیا ہے۔ ان سے مجرموں کو پناہ دینے کے بارے میں سوال کئےجائیں گے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان سب سے ایک عبدالسلام کے دوست کی ماں ہے۔ چار ماہ سے جاری انکوائری بے نتیجہ رہی تھی مگر اچانک جب فرانس اور بیلجیم کے افسران منگل کے روز بروسلز کے نواح میں جنگل کے نزدیک واقع ایک مکان میں یہ سوچ کر داخل ہوئے کہ شاید وہاں کوئی سراغ مل جائے۔ تاہم وہاں موجود لوگوں نے دروازہ کھلتے ہی فائرنگ کردی جس میں تین افسر زخمی بھی ہوگئے۔

      First published: