உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: آئی ایس آئی کا ناپاک منصوبہ اب بھی جاری، پی او کے میں چلا رہا ہے کئی دہشت گردانہ کیمپ

    Terror Camps in PoK: پاکستان مقبوضہ کشمیر میں تین کلسٹر کے تحت کئی دہشت گردانہ کیمپ پھل پھول رہے ہیں۔ ان دہشت گردانہ کیمپوں کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ساری سہولیات دستیاب کرا رہی ہے۔

    Terror Camps in PoK: پاکستان مقبوضہ کشمیر میں تین کلسٹر کے تحت کئی دہشت گردانہ کیمپ پھل پھول رہے ہیں۔ ان دہشت گردانہ کیمپوں کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ساری سہولیات دستیاب کرا رہی ہے۔

    Terror Camps in PoK: پاکستان مقبوضہ کشمیر میں تین کلسٹر کے تحت کئی دہشت گردانہ کیمپ پھل پھول رہے ہیں۔ ان دہشت گردانہ کیمپوں کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ساری سہولیات دستیاب کرا رہی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: بالا کوٹ میں منہ کے بل گرنے کے باوجود پاکستان اپنی ناپاک حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ ہندوستان کے خلاف اب بھی پاکستان کی خفیجہ ایجنسی دہشت گردی کی فیکٹری کی آپریٹنگ کر رہا ہے۔ سی این این-نیوز-18 کو ملی ایکسکلوزیو جانکاری کے مطابق پاک مقبوضہ کشمیر کے تین کلسٹر میں کئی دہشت گردانہ کیمپ چل رہے ہیں، جنہیں آئی ایس آئی خوراک ورسد مہیا کرا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ تینوں کلسٹر منشیرا، مظفرآباد اور کوتلی میں واقع ہیں۔ ان تینوں مقامات پر لشکر طیبہ (ایل ای ٹی)، جیش محمد (جے ای ایم) البدر اور حرکت المجاہدین کیمپ چلا رہے ہیں۔

      اتنے کیمپ چل رہے ہیں

      منشیرا کلسٹر میں بوئی، بالا کوٹ، گڑھی حبیب اللہ دہشت گردانہ کیمپ واقع ہیں، جبکہ مظفرآباد کلسٹر میں چیلا بندی، شاوینالا، عبداللہ بن مسعود اور دلائی میں دہشت گردی کی فیکٹری ہیں۔ پاکستانی فوج کی تین پی او کے بریگیڈ کوٹلی کلسٹر کے سینسا، کوٹلی، گلپور، فاگیش اور دگّی کیمپوں کی سرگرمیوں کی ہم آہنگی کر رہی ہے۔

      کیسے کام کر رہے ہیں دہشت گردانہ کیمپ

      ذرائع کے مطابق، یہ کیمپ اہم طور سے فاروارڈ علاقوں میں لانچ پیڈ کے لئے فیڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یعنی یہیں سے لانچ پیڈ پر دہشت گردوں اور اس سے متعلق دیگر سہولیات دستیاب کرائی جاتی ہے۔ فارورڈ ایریا گریز، کیل، نیلم وادی، تنگ دھر، اری چکوٹی، گلمرگ، پونچھ، راجوری، نوشیرا اور سندر بنی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے تقریباً 2-3 کلو میٹر کے اندر میں ہیں۔ کیمپ میں پاکستان کے پنجاب صوبہ سے نوجوانوں کی بھرتی کی جاتی ہے اور انہیں ہتھیاروں کے استعمال اور خود کش حملے کے بارے میں ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سب سردی سے پہلے نکل جاتے ہیں اور سری نگر میں کام کر رہے آور گراونڈ ورکر (او جی ڈبلیو- دہشت گردوں) کی نگرانی میں رہتے ہیں۔ او جی ڈبلیو کو آئی ایس آئی ڈرون کے ذریعہ سے ہتھیار بھیجتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Kargil Vijay Diwas 2022: کارگل وجے دیوس پر PM Modi نے ہندوستانی فوج کی بہادری کو کیا یاد

      مشن کشمیر ہے مقصد

      سی این این-نیوز-18 نے حال ہی میں ایک ریٹائرڈ آئی ایس آئی افسر سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ اس کیمپ کا مقصد مشن کشمیر ہے۔ یعنی پاکستان دوبارہ سے کشمیر کے موضوع کو گرمانا چاہتا ہے تاکہ اس کا اس کے لئے اہمیت برقرار رہے۔ افسر نے بتایا کہ آئی ایس آئی اسلامک اسٹیٹ ولایہ ہند (آئی ایس ایچ پی) کے ساتھ مل کر لشکر طیبہ، جیش محمد، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کچھ پاکستان حامی جنگجووں سے ایک نیا اتحاد بنا رہا ہے۔

      حالانکہ انہوں نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت نئے اتحاد میں شامل ہونے کے لئے تذبذب کا شکار ہے، کیونکہ وہ امن چاہتے ہیں، لیکن آئی ایس آئی ’جہاد عظیم‘ کے لئے جموں وکشمیر میں دراندازی کرنے پر زور دے رہا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: