உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں جیش محمد اور لشکر طیبہ نے تبدیل کیا اپنا نام، دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے کے منصوبوں میں مصروف

    پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اب اسی نام سے نئے جہادیوں کو تربیتی مراکز میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے کی تربیت دے رہی ہے۔ ہندستان سمیت بین الاقوامی سطح کی کئی تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس کیس سے متعلق کئی اہم معلومات ملی ہیں۔

    پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اب اسی نام سے نئے جہادیوں کو تربیتی مراکز میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے کی تربیت دے رہی ہے۔ ہندستان سمیت بین الاقوامی سطح کی کئی تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس کیس سے متعلق کئی اہم معلومات ملی ہیں۔

    پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اب اسی نام سے نئے جہادیوں کو تربیتی مراکز میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے کی تربیت دے رہی ہے۔ ہندستان سمیت بین الاقوامی سطح کی کئی تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس کیس سے متعلق کئی اہم معلومات ملی ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد۔ پاکستان (Pakistan) میں قائم دہشت گرد تنظیمیں جیش محمد (Jaish-e-Mohammed) اور لشکر طیبہ (Lashkar-e-Taiba) اب ایف اے ٹی ایف FATF سمیت دیگر بین الاقوامی سطح کی تنظیم کی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے نام تبدیل کرکے دہشت گرد منصوبوں کو انجام دینے میں مصروف ہے۔

      خفیہ ایجنسی کے سینئر ذرائع کے مطابق لشکر طیبہ (Lashkar-e-Taiba) اب دہشت گردی کی تربیت سے لے کر سلیپر سیل بنانے تک البرق ( Al Burq) کے نام سے کام کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ایک ہی نام کے تحت تمام فعال سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ اس کی مدد کے لیے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ISI اس کی کھلی مدد کر رہی ہے۔

      خفیہ ایجنسی کے سینئر ذرائع کے مطابق ، پاکستان کی سرزمین کی پیداوار اور وہاں سے کام کرنے والے جیش محمد کا نام بھی تبدیل کر کے اس کا نام (pseudo Name) العمر مجاہدین ( Al umar Mujahedeen) رکھا گیا ہے۔ تاکہ یہ پاکستانی دہشت گرد اس فرضی نام سے اپنے منصوبوں کو انجام دے سکیں۔

      پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اب اسی نام سے نئے جہادیوں کو تربیتی مراکز میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے کی تربیت دے رہی ہے۔ ہندستان سمیت بین الاقوامی سطح کی کئی تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس کیس سے متعلق کئی اہم معلومات ملی ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: