ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا وائرس کے قہر سے تھائی لینڈ میں سیکس انڈسٹری ٹھپ ، تین لاکھ سیکس ورکرس ہوئے بے روزگار

جہاں ایک طرف بے روزگاری کی وجہ سے کچھ سیکس ورکرس کورونا وائرس کے خطرہ کے درمیان تھائی لینڈ کی سڑکوں پر اتر کر کام کی تلاش کررہے ہیں تو دوسری طرف زیادہ تر اپنے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس ورک پلیس یا تو چھن گیا یا پھر بند ہوگیا ہے

  • Share this:
کورونا وائرس کے قہر سے تھائی لینڈ میں سیکس انڈسٹری ٹھپ ، تین لاکھ سیکس ورکرس ہوئے بے روزگار
کورونا وائرس کے قہر سے تھائی لینڈ میں سیکس انڈسٹری ٹھپ، تین لاکھ سیکس ورکرس ہوئے بے روزگار

کورونا وائرس کے قہر سے دنیا کی کوئی بھی صنعت اور تجارت بچی ہوئی نہیں ہے ۔ تھائی لینڈ میں کورونا وائرس کی وجہ سے سیکس انڈسٹری بری طرح ٹھپ ہوچکی ہے ۔ تین لاکھ سیکس ورکرس کے سامنے روزی روٹی کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ لاک ڈاون کی وجہ سے تھائی لینڈ میں سیاحوں کی آمد بھی پوری طرح سے بند ہے ۔


کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے جاری لاک ڈاون کی وجہ سے تھائی لینڈ کی سیکس انڈسٹریز بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ بینکاک سے لے کر پٹایا تک کے ریڈ لائٹ علاقوں میں سناٹا چھایا ہوا ہے اور نائٹ کلب اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ مساج پارلرس بھی بند پڑے ہیں ۔ اس کی وجہ سے نائٹ کلب ، مساج پارلر اور ریسٹورینٹ بار سے نکل کر سیکس ورکر اب تھائی لینڈ کی سڑکوں پر اترنے کیلئے مجبور ہیں ، جہاں کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کا زیادہ خطرہ ہے ۔ حالانکہ کام کی تلاش میں ایسا کرنے والے سیکس ورکر خود بھی مانتے ہیں کہ اس کام میں رسک زیادہ ہے اور انہیں ڈر بھی لگتا ہے ، لیکن کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں ہے کیونکہ کھانے اور رہنے کیلئے پیسہ کہاں سے لائیں گے ؟ ۔


زیادہ تر سیکس ورکر بار ، پارلر ، ریسٹورینٹ اور ہوٹل کے ذریعہ اپنی سروسیز دیتے ہیں ۔ لیکن اچانک ہی کرفیو لگنے اور بار ، ریسٹورینٹ ، ہوٹل اور پارلر بند ہونے سے ان کے پاس کام نہیں رہا ۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ بہت سارے ورکرس گھر میں بیٹھ کر اس بحران کے گزرنے کا انتظار کررہے ہیں ، کیونکہ کرفیو کی وجہ سے ان کو مقامی کسٹمرس بھی نہیں مل پارہے ہیں ۔ تھائی لینڈ میں جمعہ سے ہی رات 10 بجے سے صبح چار بجے تک کرفیو لگادیا گیا ہے ۔


علامتی تصویر

ایسے میں جہاں ایک طرف بے روزگاری کی وجہ سے کچھ سیکس ورکرس کورونا وائرس کے خطرہ کے درمیان تھائی لینڈ کی سڑکوں پر اتر کر کام کی تلاش کررہے ہیں تو دوسری طرف زیادہ تر اپنے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس ورک پلیس یا تو چھن گیا یا پھر بند ہوگیا ہے ۔ فی الحال سیکس ورکرس کیلئے دور دور تک راحت کی امید نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ تھائی لینڈ حکومت 24 گھنڈے کا کرفیو لگانے پر غور کررہی ہے ۔
First published: Apr 06, 2020 05:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading