ہوم » نیوز » عالمی منظر

اس کمپنی نے 22 لڑکیوں کا دھوکہ سے بنایا فحش ویڈیو ، عدالت نے سنائی یہ بڑی سزا

گرلس ڈو پورن ( Girls Do Porn) کے مالکوں پر الزام تھا کہ انہوں نے خواتین کو پیسے کا لالچ دے کر ان کا جنسی استحصال کیا ۔

  • Share this:
اس کمپنی نے 22 لڑکیوں کا دھوکہ سے بنایا فحش ویڈیو ، عدالت نے سنائی یہ بڑی سزا
علامتی تصویر

امریکہ کی ایک عدالت نے خواتین کی رضامندی کے بغیر فحش ویڈیوز ویب سائٹ پر ڈالنے کے الزام میں گرلس ڈو پورن ( Girls Do Porn) کمپنی کے مالکان پر 92 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ ویب سائٹوں کے مالکوں کو جرمانہ کی رقم متاثرہ خواتین کو ادا کرنی ہوگی ۔ گرلس ڈو پورن کے مالکوں پر الزام تھا کہ انہوں نے خواتین کو پیسے کا لالچ دے کر ان کا جنسی استحصال کیا ۔


ڈیلی میل کی خبر کے مطابق تقریبا 100 خواتین نے دعوی کیا تھا کہ وہ ایک غیر قانونی پورن آپریشن کا شکار ہوئی ہیں ۔ انہیں زبردستی فحش ویڈیوز بنوانے کیلئے مجبور کیا گیا ، جنہیں بعد میں ان کی رضامندی کے بغیر ویب سائٹ پر آن لائن کردیا گیا ۔ عدالت نے اس معاملہ میں ویب سائٹ کے مالک مائیکل جیمس پریٹ ، ویڈیو گرافر میتھیو وولف اور ان کے ساتھی کو قصور وار قرار دیا اور 92 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا ۔


کیا تھا پورا معاملہ ؟


دراصل 22 خواتین نے چار سال پہلے امریکہ کی ایک عدالت میں کیس درج کرایا تھا ۔ عدالت میں خواتین نے بتایا تھا کہ ایک ہوٹل میں ویب سائٹ کے مالک سے ان کی ملاقات ہوئی ۔ اس دوران ویب سائٹ کے مالک نے ان سے کہا کہ انہیں ویب سائٹ کیلئے ایڈلٹ ویڈیوز بنانے ہوں گے ۔ ساتھ ہی اس نے کہا تھا کہ یہ ویڈیوز ان کے پرائیویٹ کلائنٹس کیلئے ہی ہوں گے ۔ انہیں ویب سائٹ پر آن لائن نہیں کیا جائے گا ، لیکن کچھ دنوں کے بعد ان ویڈیوز کو ویب سائٹ پر ڈال دیا گیا ۔

ویب سائٹ سے سبھی ویڈیوز ہٹانے کا حکم 

عدالت نے اب اس معاملہ میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ کے مالکوں نے خواتین کی عزت کو نقصان پہنچائی ہے ، ان میں سے کچھ خواتین اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں بھی آگئی ہیں ۔ جج کیون اینرائٹ نے کمپنی کے مالکوں کو ویب سائٹ سے سبھی متعلقہ ویڈیوز ہٹانے کی بھی ہدایت دی ۔ کمپنی پر عائد جرمانہ کی رقم سبھی 22 خواتین میں برابر تقسیم کی جائے گی ۔
First published: Jan 08, 2020 07:20 PM IST