برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستانی کمیشن میں توڑپھوڑ کا اٹھا مدعا، سفارتکاروں کی سیکورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ

برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستانی کمیشن میں توڑپھوڑ کا اٹھا مدعا، سفارتکاروں کی سیکورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ

برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستانی کمیشن میں توڑپھوڑ کا اٹھا مدعا، سفارتکاروں کی سیکورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ

اتوار کو ہوا حملہ اتنے سالوں میں چھٹی مرتبہ ہے جب ہندوستانی ہائی کمیشن پر اسی طرح حملہ کیا گیا ہے۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • London
  • Share this:
    برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ہاوس آف کامنس میں جمعرات کو لندن میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن میں خالصتان حامی انتہاپسندوں کی جانب سے کی گئی توڑ پھوڑ کا مدعا اٹھایا گیا۔ اس دوران برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے ’خالصتانی انتہاپسندوں‘ کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور ہندوستانی سفارتکاروں کی سیکورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

    کنزرویٹیو پارٹی کے رکن باب بلیک مین نے جہاں تشدد میں شامل تنظیموں پر پابندی لگانے کے اقدامات پر ایوان میں بحث کرنے کا مطالبہ کیا، وہیں لیبر پارٹی کے رکن گیرتھ تھامس نے ہاوس آف کامنس کے صدر سے ایسے واقعات دوبارہ نہ ہو اس کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے  میں بتانے کو کہا۔

    کابینہ کے وزیر پینی مورڈنٹ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ جیمز کلیورلی کے ایک سابقہ ​​بیان کو دہراتے ہوئے کہا، یہاں ہندوستانی مشن کے ارد گرد حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کا اعلان کیا، ۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ ہم لندن میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے باہر ہونے والی توڑ پھوڑ اور تشدد کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہائی کمیشن اور اس کے عملے کے خلاف ایسی کارروائیاں مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہائی کمیشن کے آس پاس سیکورٹی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ کام کیا جارہا ہے اور اس کے ملازمین کی سیکورٹی یقینی بنانے کی ہر ممکن تبدیلی کی جائے گی، تاکہ وہ اس ملک اور ہندوستان، دونوں کی خدمت کرتے ہوئے محفوظ زندگی بسر کرسکیں۔

    یہ بھی پڑھیں:

    یہ بھی پڑھیں:

    باب بلیک مین  نے کہا کہ اتوار کو ہوا حملہ اتنے سالوں میں چھٹی مرتبہ ہے جب ہندوستانی ہائی کمیشن پر اسی طرح حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، اتوار کو ہندوستانی ہائی کمیشن کے باہر خالصتانی انتہاپسندوں کی جانب سے کی گئی غنڈہ گردی اس ملک کے لیے شرم کی بات ہے۔
    Published by:Shaik Khaleel Farhaad
    First published: