ہوم » نیوز » عالمی منظر

یوروپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز

جنیوا۔ مشرق وسطیٰ سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 2015 میں دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 23, 2015 12:12 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
یوروپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز
جنیوا۔ مشرق وسطیٰ سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 2015 میں دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

جنیوا۔  مشرق وسطیٰ سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 2015 میں دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی یہ سب سے بڑی لہرہے ۔ انٹر نیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن( آئی او ایم )کے مطابق 2014کے مقابلے میں ہجرت کے محاذ پر یہ چار گنا اضافہ ہے۔پناہ گزینوں کی اکثریت شام، عراق اور افغانستان سے ہے اور یہ سمندر کے راستے یورپ پہنچے ہیں۔


روزنامہ دی گارجین نے آئی ایم او کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ان مہاجرین میں غالباً آٹھ لاکھ پناہ گزیں ترکی سے یونان سفر کرتے ہوئے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق اس دوران کشتیاں غرقاب ہونے کے سانحات میں کوئی 3696 ہجرت کرنے والے ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں یا بدستور لاپتہ ہیں۔ مہاجروں کی یہ تعداد چھ یورپی ممالک سے اعداد و شمار کی روشنی میں متعین کی گئی ہے۔ ان ملکوں میں یونان، بلغاریہ، اٹلی ،اسپین، مالٹا اور قبرص شامل ہیں۔ زائد از دس لاکھ پناہ گزینوں میں سے ساڑھے چار لاکھ کے قریب شامی ہیں ، 18600 مہاجروں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اسی سال یعنی آئندہ چند دنوں میں دنیا بھر میں بے دخل ہونے والے لوگوں کی تعداد چھ کروڑ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ مہاجروں کی اس قدر بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے متاثر کئی یورپی ملکوں نے سرحدوں کو خاردار طور پر حصار بند کر دیا ہے اور دراندازی پر قابو پانے کے اقدامات مزید سخت کر دئیے ہیں۔۔


یونان پناہ گزینوں کے یورپ میں داخلے کا اہم مقام ہے۔ جسے دیکھتے ہوئے یورپی یونین نے پچھلے ہفتے یونان میں ’فرونٹیکس‘ بارڈر ایجنسی کے عملے میں اضافہ کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ بہت سے مہاجریں یونان سے شمال کی جانب بلقانی ریاستوں تک اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ مقدونیہ نے ایسے مہاجروں کو پناہ دینا بند کر دیا ہے جو کسی جنگ زدہ علاقے سے نہیں آئے۔

First published: Dec 23, 2015 12:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading