உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine War: وہ پاکستانی جو یوکرین میں پھنسے ہندوستانی طلبا کا بنا مسیحا، کون ہے وہ؟ کیوں کررہا ہے مدد؟

    Youtube Video

    پاکستانی نژاد معظم خان کہتے ہیں کہ روس یوکرین جنگ (Russia-Ukraine War) شروع ہونے سے پہلے ہی میری بہت سے ہندوستانیوں سے دوستی رہی ہے۔ ان 11 سال میں میں نے ٹرنوپل نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں بہت سے دوست بنائے ہیں۔ ان میں سے بہت سے پاس آؤٹ ہو کر ہندوستان واپس جاچکے ہیں۔ وہ اب بھی مجھ سے رابطے میں ہیں اور ہم اچھے دوست ہیں۔

    • Share this:
      جب ٹیم ایس او ایس انڈیا (Team SOS India) کے بانی نتیش سنگھ نے یوکرین سے پھنسے ہوئے ہندوستانی طلبا کو نکالنے کا کام شروع کیا، تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں واپس کیسے لایا جائے۔ وہ صرف اتنا جانتے تھے کہ ہندوستانی طلبا کو ہنگری، پولینڈ، سلوواکیہ یا رومانیہ کی سرحدوں تک پہنچنے کو یقینی بنانے کے لیے انھیں کافی بسوں اور کاروں کی ضرورت ہوگی۔

      اس نے بسوں کے لیے ٹور آپریٹرز کو منظم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن کوئی نہیں مل سکا، یہاں تک کہ وہ یوکرین میں آباد ایک پاکستانی شہری معظم خان سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

      ’ہندوستانی طلبا کی مدد کرکے ایک ڈالر بھی نہیں لیا‘

      نتیش سنگھ نے بتایا کہ اسی دوارن ایک پاکتسانی سے ملاقات ہوئی، جن کا نام معظم خان (Moazam Khan) ہیں۔ معظم ہماری ٹیم کے لیے خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے تھے۔ وہ بہت مددگار ہیں۔ انھوں نے اپنی جانب سے مدد رکنے کے باوجود بھی ہندوستانی طلبا سے ایک ڈالر بھی نہیں لیتے تھے جن کے پاس ادا کرنے کے لیے پیسے تک نہیں تھے۔ معظم خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یوکرین میں مختلف مقامات پر پھنسے 2500 ہندوستانی طلبا کے لیے محفوظ راستے کا انتظام کیا تھا، جس سے وجہ سے وہ ہندوستانی طلبا کے لیے ایک مسیحا کے طور پر جانے جارہے ہیں۔

      Russia-Ukraine War: ’درآمدات پر پابندی لگی تو تیل کی قیمتیں 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی‘ روس نے کیا خبردار



      یوکرین کے ٹرنوپل نامی علاقے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے معظم کہتے ہیں کہ جب میں نے ہندوستانی طلبا کے پہلے بیچ کو بچایا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بحران اتنا بڑا ہے۔ تاہم جلد ہی مجھے معلوم ہوا کہ میرا موبائل نمبر بہت سے ہندوستانی واٹس ایپ پر وائرل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد مجھے آدھی رات کو ریسکیو آپریشن کے لیے نان اسٹاپ فون کالز آنے لگیں اور آج تک میں نے 2500 ہندوستانی طلبا کے محفوظ انخلا کو یقینی بنایا ہے۔

      کیریئر ترک کرکے ٹور آپریٹر کا کاروبار:

      معظم 11 سال قبل یوکرین آئے تھے، کیونکہ ان کے بڑے بھائی کی شادی یوکرائنی شہری سے ہوئی ہے۔ اسلام آباد کے قریب تربیلا چھاؤنی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے معظم نے یوکرین میں سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، لیکن پھر یوکرین میں بس ٹور آپریٹر کا کاروبار شروع کرنے کے لیے سول انجینئر کے طور پر اپنا کیریئر ترک کر دیا۔

      پاکستانی نژاد معظم خان کہتے ہیں کہ روس یوکرین جنگ (Russia-Ukraine War) شروع ہونے سے پہلے ہی میری بہت سے ہندوستانیوں سے دوستی رہی ہے۔ ان 11 سال میں میں نے ٹرنوپل نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں بہت سے دوست بنائے ہیں۔ ان میں سے بہت سے پاس آؤٹ ہو کر ہندوستان واپس جاچکے ہیں۔ وہ اب بھی مجھ سے رابطے میں ہیں اور ہم اچھے دوست ہیں۔

      Russia Ukraine War: ڈچ پی ایم کے ساتھ فون پر PM مودی نے کی بات، یوکرین سے ہندوستانیوں کو نکالنے پر کیا تبادلہ خیال



      معظم کے مطابق ہندوستانی ان کے ساتھ عام زبان کے ربط کی وجہ سے راحت محسوس کرتے ہیں اور اسی لیے ان سے فوری طور پر رابطہ قائم ہوجاتا ہے۔ معظم کہتے ہیں کہ یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی کے لیے بات چیت کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ یہاں کے لوگ صرف یوکرین بولتے ہیں یا کچھ روسی بولتے ہیں۔

      ’انگریزی بہت کم بولی جاتی ہے۔ اس منظر نامے میں میں اردو بولتا ہوں اور زیادہ تر ہندوستانی طلبا ہندی بولتے ہیں۔ اس لیے یہ ہمیں فوری طور پر جوڑتا ہے۔ ہندی اور اردو تقریباً ایک جیسی ہیں اور اس لیے ہم اچھی طرح سے ایک دوسرے کو سمجھ لیتے ہیں‘۔

      ٹرنوپل سے ہنگری اور سلوواکیہ 5 گھنٹے کا راستہ ہے جبکہ رومانیہ 3 گھنٹے اور پولینڈ سے ڈھائی گھنٹے کا راستہ ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: