உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں حالات بد سے بدتر،37فیصد آبادی کو نہیں مل رہا کھانا، چونکانے والی نئی رپورٹ

    پاکستان کی کم سے کم 37 فیصدی آبادی غذائیت کی کمی (Malnutrition) سے متاثر ہے جب کہ بلوچستان میں یہ تناسب قریب 50 فیصدی تک پہنچ گیا ہے۔

    پاکستان کی کم سے کم 37 فیصدی آبادی غذائیت کی کمی (Malnutrition) سے متاثر ہے جب کہ بلوچستان میں یہ تناسب قریب 50 فیصدی تک پہنچ گیا ہے۔

    غذائیت کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں ایک تہائی سے زیادہ بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بچے سندھ اور بلوچستان صوبے کے ہیں۔ اتنا ہی نہیں حالات دن بہ دن مزید مشکل ہوتے جارہے ہیں۔

    • Share this:
      بلوچستان: دہشت گردی کو پناہ دینے والے پاکستان (Pakistan) کی اقتصادی حالت دن بہ دن بدتر ہوتی جارہی ہے۔ عوام اپنی روزانہ کی عام ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کرپارہے ہیں۔ بلوچستان (Balochistan) اسمبلی میں وومنس پارلیمنٹری فورم کی صدر ڈاکٹر روبابہ خان بولیدی نے اس کا انکشاف کرتے ہوئے مستقبل کے دنوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کم سے کم 37 فیصدی آبادی غذائیت کی کمی (Malnutrition) سے متاثر ہے جب کہ بلوچستان میں یہ تناسب قریب 50 فیصدی تک پہنچ گیا ہے۔

      ایکسپریس ڈیلی کی خبر کے مطابق ایک غذائیت کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں ایک تہائی سے زیادہ بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بچے سندھ اور بلوچستان صوبے کے ہیں۔ اتنا ہی نہیں حالات دن بہ دن مزید مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر ڈاکٹر روبابہ خان نے بتایا کہ بلوچستان پر آئے اس بحران پر عالمی ادارہ صحت مدد کررہا ہے اور ڈبلیو ایچ او کی مدد سے بلوچستان میں غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ایک سینٹر بھی قائم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے حالات کافی مشکل ہیں۔ پاکستان کی قریب 37 فیصد آبادی کو ٹھیک طرح سے کھانا نہیں مل رہا ہے۔

      ڈاکٹر روبابہ نے کہا کہ یہاں غذائیت کی کمی کی سب سے بڑی وجہ غریبی اور وسائل کی کمی ہے۔ یہاں لوگوں کو نہ کام مل رہا ہے اور نہ ہی کسی کے پاس زندگی گزارنے کے لئے کوئی ٹھوس کام ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، جولائی میں پاکستان کے بلوچستان صوبے میں لگ بھگ 500000 لوگوں کے لئے کھانے کی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا۔

      انہوں نے کہا کہ اس وقت ممکنہ طور سے پاکستان میں پانچ لاکھ لوگ کھانے کی کمی کے بحران یا ایمرجنسی لیول کا سامنا کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں قریب 100000 لوگوں کو فوری طور سے زندگی گزارنے کے لئے مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوکھے اور پانی کی کمی کی وجہ سے فصلیں بھی پوری طرح سے برباد ہورہی ہیں۔ کھیتی نہ ہونے سے مویشی پالن کی بھی قلت سامنے آرہی ہیں۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: