உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان نے عام معافی کا کیا اعلان، نئی حکومت میں خواتین کی حصے داری کا دلایا یقین

    Youtube Video

    طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کابل میں تمام سفارتی مشن اور غیر ملکی شہریوں کو کسی خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    • Share this:
      طالبان نے عام معافی کا کیا اعلان۔ طالبان نے سرکاری ملازمین سے کام پر واپس لوٹنے کی اپیل کی۔ اس سے قبل بھی طالبان نے نقصان نہیں پہنچانے کی بات کہی تھی۔ کابل کے ایک باشندے کو امید ہے کہ طالبان لوگوں کے خدشات کو دور کر سکتے ہیں موجودہ میں زندگی کو معمول پر لانے میں مدد کر سکتے ہیں اور افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ افغان دارالحکومت کابل کےعلاقوں میں سناٹا پسرا ہوا ہے ، دکانیں بند ہیں ۔ لوگ گھروں میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور طالبان نے شہر کے ہر کونے میں چوکیاں بنا رکھی ہیں اور وہاں سے گزرنے والے لوگوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کابل میں تمام سفارتی مشن اور غیر ملکی شہریوں کو کسی خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

      افغانستان Afghanistan war میں موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور پورا ملک پریشان ہے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ طالبان افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے اور یہ کہ طالبان کی طرف سے تبدیلی آئے گی جنہوں نے ماضی میں لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ طالبان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے خدشات کو دور کریں اور افغانی ترقی کے لیے کوشش کریں۔

      حکومت بنانے سے متعلق تیاریاں شروع 

      طالبان (Taliban) نے افغانستان (Afghanistan) پر قبضے کے بعد وہاں حکومت بنانے سے متعلق تیاریاں شروع کردی ہیں۔ سرکاری ملازمین کو عام معافی دینے اور کام پر لوٹنے کا فرمان سنانے کے بعد طالبان نے ایک اور بڑا اعلان کیا ہے۔ طالبان نے کہا کہ اس کی حکومت پوری طرح سے اسلامک ہوگی۔ اس میں خواتین کو بھی شامل کیا جائے گا۔ طالبان نے کہا کہ اس کا مقصد خواتین کے خلاف تشدد کو روکنا ہے۔

      امارات اسلامیہ کلچر کمشنر کے رکن انعام اللہ سمن غنی نے منگل کو افغان کے سرکاری ٹی وی پر یہ تبصرہ کیا۔ یہ اب طالبان کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے کہا، ’اسلامی امارات نہیں چاہتا ہے کہ خواتین پر تشدد ہو‘۔ طالبان افغانستان کے لئے اسلامی امارات کا استعمال کرتا ہے۔

      انعام اللہ سمن غنی نے کہا، ’حکومت کا ڈھانچہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے، لیکن ہمارے تجربے کی بنیاد پر، اس میں مکمل اسلامی قیادت ہونا چاہئے اور سبھی فریق کو اس میں شامل رکنا چاہئے۔ ابھی حکومت بنانے کا ایجنڈا طے کیا جا رہا ہے۔ جلد ہی تجویز کا اعلان کیا جائے گا۔

      افغانستان کو اسلامی ریاست بنائے گا طالبان
      طالبان نے افغانستان میں شریعہ قانون نافذ کرکے اسے اسلامک ملک بنانا چاہتا ہے۔ طالبان نے کہا کہ ہماری تنظیم جلد ہی کابل میں راشٹرپتی بھون احاطے سے افغانستان کو اسلامی ملک بنانے کا اعلان کرے گی۔ اقتدار منتقلی کے لئے رابطہ کونسل کا اعلان کیا گیا ہے۔ آج کونسل کے اراکین طالبانی لیڈروں سے بات کریں گے۔ طالبان نے منگل کو سبھی سرکاری ملازمین کو ’عام معافی (General amnesty)‘ دینے کا اعلان بھی کیا۔ طالبان نے اپنے بیان میں کہا، ’سبھی کے لئے عام معافی کا اعلان کیا جارہا ہے... ایسے میں آپ اپنی روٹین لائف پورے اعتماد کے ساتھ شروع کرسکتے ہیں۔ طالبان نے کہا کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ سبھی کام پر لوٹ آئیں، کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔

      امریکہ نے طالبان کو دی وارننگ
      افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد پہلی بار امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ رات بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حالات اچانک بدل گئے۔ اس کا اثر دوسرے ممالک پر بھی پڑا ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی جاری رہے گی۔ جو بائیڈن نے طالبان کو وارننگ بھی دی ہے کہ اگر امریکیوں کو نقصان پہنچایا تو تیزی سے جواب دیا جائے گا۔

      وہیں امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے تسلیم کیا ہے کہ جس افغان فوج کو انھوں نے گذشتہ بیس برس سے تربیت دی ہے اور انھیں اسلحے سے لیس کیا، امریکہ ان کی طاقت اور صلاحیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکا۔ وہیں انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ،افغانستان میں موجود اپنے بچے ہوئے اہلکاروں اورشہریوں کو وطن واپس لانے کی پوری کوشش کررہا ہے۔

      افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہندوستان کی مرکزی وزارت داخلہ نے ویزا کی ایک نئی قسم کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ افغانوں کی درخواستوں کو تیزی سے ٹریک کرسکیں جو افغانستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہندوستان آنا چاہتے ہیں۔ وزارت داخلہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ویزا کی فراہمی کا جائزہ لیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق ای۔ویزا حاصل کرنے کیلئے مذہب کی بندش نہیں ہوگی۔ یہ ای ۔ویزا چھ مہینوں کیلئے ہوگا۔ دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے انخلاء کے اپنے فیصلے کو درست قراردیتے ہوئے طالبان کو انتباہ دیا ہیکہ اگر طالبان امریکی شہریوں کے انخلاء کی فوجی کاروائی میں مداخلت کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ وہیں امریکہ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے شرائط رکھیں ہیں۔ امریکہ نے افغانستان میں ایک ایسی نئی حکومت کا مطالبہ کیا ہے جو انسانی حقوق بشمول خواتین کے حقوق کا احترام کرے ۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: