உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: طالبان : 'اسٹوڈینٹ' مجاہدین سے طاقتور سیاسی کھلاڑی تک ، جانئے کچھ چونکانے والے حقائق

    طالبان : 'اسٹوڈینٹ' مجاہدین سے طاقتور سیاسی کھلاڑی تک ، جانئے کچھ چونکانے والے حقائق

    طالبان : 'اسٹوڈینٹ' مجاہدین سے طاقتور سیاسی کھلاڑی تک ، جانئے کچھ چونکانے والے حقائق

    امریکہ نے 11 ستمبر 2001 کو والڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کا طالبان پر الزام لگا کر افغانستان میں اپنی فوج تعینات کی تھی۔ اب اس کو طالبان نے انخلا کے لیے مجبور کردیا ہے۔ ملک میں طالبان کا بھر سے عروج کابل میں صدر اشرف غنی کی حکومت کے لیے تباہ کن دھکا ہوگا۔

    • Share this:
      طالبان شمالی افغانستان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے میں گزشتہ روز کامیاب ہو گئے اور اب خطے کے سب سے بڑے شہر کی طرف اپنا رخ کر رہے ہیں ۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد سے اب تک طالبان افغانستان کے 65 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں ۔ بتادیں کہ امریکہ نے 11 ستمبر 2001 کو والڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کا طالبان پر الزام قرار دیتے ہوئے افغانستان میں اپنی فوج اتار دی تھی ۔ اب اس کو طالبان نے واپسی کے لیے مجبور کردیا ہے ۔ ملک میں طالبان کا بھر سے عروج کابل میں صدر اشرف غنی کی حکومت کے لیے تباہ کن دھکا ہوگا ۔

      طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان کے سات صوبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ پیر کو انہوں نے جنوب مغربی افغانستان میں Farah کے صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرنے سے پہلے شمالی صوبے سمنگان کے دارالحکومت ایبک پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے ہفتے کے آخر میں تین صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کیا ، جس میں جنوبی صوبہ نیمروز کا دارالحکومت سر پل اور شمال مشرقی صوبہ تخار کا دارالحکومت Taloqanبھی شامل ہے۔ وہ پہلے ہی شمالی صوبائی دارالحکومت قندوز اور جنوب مغربی صوبہ ہلمند کے دارالحکومت پر قبضہ کر چکے ہیں۔

      افغانستان میں طالبان کے حملوں میں اضافہ بنیادی طور پر مئی میں شروع ہوا جب امریکہ نے جنگ زدہ ملک سے اپنی فوج کو واپس بلانے اور اپنے آخری فوجیوں کو گھر واپس لانے کا آخری مرحلہ شروع کیا ۔ افغان شہری بدترین وقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیونکہ ملک میں خانہ جنگی کا دور ہے ۔ پیر کو ایک بیان میں یونیسیف UNICEF نے کہا کہ جنوبی 72 صوبوں میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 20 بچے ہلاک اور 130 بچے زخمی ہوئے ہیں ۔

      طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان کے سات صوبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
      طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان کے سات صوبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔


      طالبان کون ہیں؟

      طالبان سرد جنگ کے دوران 1990 کی دہائی کے اوائل میں ابھرے۔ افغان مجاہدین یا گوریلا جنگجو تقریبا ایک دہائی تک سویت قبضے کے خلاف جنگ لڑتے رہے۔ انہوں نے اپنے ملک سے سویت قبضہ کو ختم کرکے ہی دم لیا۔ 1989 میں روس نے انخلا کیا اور اس نے افغان حکومت کے خاتمے کا آغاز کیا جو ان پر بہت زیادہ انحصار کرتی تھی۔ 1992 تک مجاہدین کی حکومت بن گئی لیکن دارالحکومت میں خونی لڑائی کا سامنا کرنا پڑا۔

      ناموافق زمینی حالات نے طالبان کے ظہور کے لیے زمین ہموار کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان سب سے پہلے 1990 کی دہائی کے اوائل میں شمالی پاکستان میں سعودی عرب کے مالی تعاون سے چلنے والے سخت گیر مذہبی مدارس میں نظر آئے۔ ان میں سے کچھ سویت کے خلاف مجاہدین جنگجو تھے۔ 1994 میں طالبان نے افغانستان کے جنوب سے فوجی مہم شروع کی۔ 1996 تک اس گروپ نے بغیر کسی مزاحمت کے افغان دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔

      امریکی شکست:

      31 اگست تک امریکی فوجیوں کے ملک سے نکل جانے کے اعلان کے بعد جو بائیڈن انتظامیہ نے انخلاء کے لیے تیزی سے کام شروع کر دیا ہے ، جس کے تحت کابل میں امریکی سفارت خانے کو محفوظ بنانے کے لیے صرف 650 فوجی چھوڑنے کا منصوبہ ہے۔ بائیڈن نے گزشتہ ہفتے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ امریکی فوجیوں کو نائن الیون کے حملوں کے بعد افغانستان میں اترنے کے 20 سال بعد ملک سے نکال دیا جائے گا۔ بائیڈن کا خیال ہے کہ امریکہ نے القاعدہ گروپ کو ختم کرنے کے مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ افغان سرزمین امریکہ پر کسی دوسرے حملے کے لیے استعمال نہ ہو۔

      بائیڈن نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ ہم نے ان مقاصد کو حاصل کیا، اسی لیے ہم گئے۔ ہم افغانستان کی تعمیر کے لیے نہیں گئے اور یہ صرف افغان عوام کا حق اور ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں اور وہ اپنے ملک کو کیسے چلانا چاہتے ہیں۔

      طالبان سرد جنگ کے دوران 1990 کی دہائی کے اوائل میں ابھرے۔
      طالبان سرد جنگ کے دوران 1990 کی دہائی کے اوائل میں ابھرے۔


      چینی وفد کی طالبان سے ملاقات

      پچھلے مہینے کے آخر میں چین کے وزیر خارجہ نے اعلیٰ سطح کے طالبان عہدیداروں کے ایک وفد سے ملاقات کی ۔ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ وانگ یی سینئر طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر اور ان کے وفد کے ساتھ تیانجن شہر میں فوٹو کھینچوا  رہے ہیں اور پھر مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں۔ دوستی کا مظاہرہ ایک ایسے وقت میں سفارتی مشن کا ظہور تھا جب طالبان قانونی حیثیت کے خواہاں تھے۔

      چین طالبان کو امن مذاکرات پر آمادہ کرنے یا کم از کم تشدد کی سطح کو کم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ وہ افغان حکومتی افواج سے علاقہ چھین رہے ہیں۔ وانگ نے کہا کہ طالبان افغانستان میں ایک اہم فوجی اور سیاسی قوت ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ امن ، مفاہمت اور تعمیر نو کے عمل میں اہم کردار ادا کریں گے۔

      پاکستان کے ساتھ تعلقات:

      طالبان کا یہ دورہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور انٹیلی جنس چیف کے چین کے دورے کے فورا بعد ہوا ۔ پاکستان کو افغانستان میں امن کی کنجی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ طالبان قیادت کا صدر دفتر پاکستان میں ہے اور اسلام آباد نے طالبان پر امن بات چیت کیلئے دباو ڈالنے کیلئے اس کا استعمال کیا ہے ۔

      29 جولائی کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کو "عام شہری" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فوجی تنظیم نہیں یے ۔ منگل کی رات نشر ہونے والے پی بی ایس نیوز آور کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا ہے ، جن میں اکثریت پشتونوں کی ہے ، وہی نسلی گروہ جو طالبان جنگجو ہیں ۔
      طالبان ترجمان محمد سہیل شاہین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی کو بھی افغان سرزمین کا روس یا پڑوسی ممالک پر حملہ کرنے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

      افغان مجاہدین یا گوریلا جنگجو تقریبا ایک دہائی تک سویت قبضے کے خلاف جنگ لڑتے رہے۔
      افغان مجاہدین یا گوریلا جنگجو تقریبا ایک دہائی تک سویت قبضے کے خلاف جنگ لڑتے رہے۔


      ہندوستان کی دلچسپی

      ہندوستان افغانستان کے امن اور استحکام میں ایک اہم شراکت دار ہے۔ اس نے پہلے ہی ملک میں امداد اور تعمیر نو کی سرگرمیوں میں تقریبا 3 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ۔ ہندوستان قومی امن اور مفاہمت کے عمل کی حمایت کرتا رہا ہے جو کہ افغانوں کی قیادت ، افغانی ملکیت اور افغان کے زیر کنٹرول ہے۔

      وہ افغانستان کے سیاسی شعبے کے تمام طبقات پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ خوشحال اور محفوظ مستقبل کے لیے اقلیتی برادریوں سمیت ملک کے تمام لوگوں کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: