உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان راج میں حسن اخند کے ہاتھوں میں ہوگی افغانستان کی کمان، دو نائب بھی نبھائیں گے فرائض

    طالبان راج میں حسن اخند کے ہاتھوں میں ہوگی افغانستان کی کمان، دو نائب بھی نبھائیں گے فرائض

    طالبان راج میں حسن اخند کے ہاتھوں میں ہوگی افغانستان کی کمان، دو نائب بھی نبھائیں گے فرائض

    افغانستان میں حکومت بنانے کے لئے ہو رہی جدوجہد کے بعد طالبان نے اپنی قیادت کو تقریباً حتمی شکل دے دی ہے۔ ملا محمد حسن اخند ملک کے سربراہ، ان کے ساتھ دو نائب ملا عبدالغنی برادر اور ملا عبدالسلام بھی ہوں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل: افغانستان میں حکومت بنانے کے لئے ہو رہی جدوجہد کے بعد طالبان نے اپنی قیادت کو تقریباً حتمی شکل دے دی ہے۔ ملا محمد حسن اخند ملک کے سربراہ، ان کے ساتھ دو نائب ملا عبدالغنی برادر اور ملا عبدالسلام بھی ہوں گے۔ ذرائع نے سی این این- نیوز 18 کو بتایا کہ ملا اخندزادہ نے حسن اخند زادہ کو اس عہدے کے لئے نامزد کیا ہے۔ وہیں، طالبان کے سرگرم ہونے کے بعد سے افغانستان کے ہر اپڈیٹ پر میڈیا کو اطلاع دینے والے ذبیح اللہ مجاہد، افغانستان کے سربراہ ملا محمد حسن اخند کے ترجمان ہوں گے۔

      اس کے ساتھ ہی ذرائع نے بتایا ہے کہ سراج الدین حقانی افغانستان کے نئے وزیر داخلہ ہوں گے اور یہی سبھی گورنروں کو نامزد کریں گے۔ اس سے قبل ذرائع نے کہا تھا کہ پاکستان کے آئی ایس آئی سربراہ حامد فیض کا کابل بھی کابل سفر کا یہی مقصد تھا۔ وہ حقانی کو افغان فوج کی تشکیل میں مدد کرنے پہنچے تھے۔ طالبان اور افغانستان فوج کی جدوجہد کے درمیان فوج کی حالت سب سے خراب بتائی گئی تھی۔ معلوم ہو کہ پاکستان کے آئی ایس آئی کو حقانی نیٹ ورک کا محافظ کہا جاتا ہے۔ یہ تنظیم القاعدہ سے منسلک ہے، جبکہ اسے اقوام متحدہ اور امریکہ نے دہشت گرد گروپ ڈکلیئر کر رکھا ہے۔

      طالبان کے مطابق، اب تک پنجشیر علاقے میں موجود معزول نائب صدر امراللہ صالح، تاجکستان چلے گئے ہیں۔
      طالبان کے مطابق، اب تک پنجشیر علاقے میں موجود معزول نائب صدر امراللہ صالح، تاجکستان چلے گئے ہیں۔


      ذرائع نے بتایا کہ افغانستان میں وزیر خارجہ کا عہدہ ملا امیر خان متقی کے پاس ہوگا۔ ذرائع نے کہا کہ یہ عبوری حکومت ہوگی۔ وہیں طالبان کے ذرائع کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر وہ اپنی حکومت کا اعلان کرسکتے ہیں۔ وہیں، ایسا بتایا جا رہا ہے کہ پنجشیر علاقے میں بھی طالبان کا کنٹرول ہوگیا ہے۔ وہیں رپورٹ سے اشارہ ملتا ہے کہ اب تک پنجشیر علاقے میں موجود معزول نائب صدر امراللہ صالح، تاجکستان چلے گئے ہیں۔ حالانکہ این آر ایف کے لیڈروں میں سے ایک احمد مسعود کا کہنا ہے کہ پنجشیر میں لڑائی جاری ہے۔

      دی نیوز کی خبر کے مطابق، ملا محمد حسن اخند رہبری شوریٰ کے سربراہ ہیں۔ یہ تنظیم طالبان کے فیصلے لینے والی تنظیم یا قیادت کونسل کہلاتی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ حسن اخند کی پیدائش قندھار میں ہوئی تھی اور وہ طالبان کے آرمڈ موومنٹ کے بانیان میں سے ایک تھے۔ خبروں میں بتایا گیا کہ پاکستان کے آئی ایس آئی سربراہ نے اتوار کو کابل میں سابق وزیر اعظم گلب الدین حکمت یار سے ملاقات کی تھی۔ افغان نیوز پورٹل نے بتایا تھا کہ یہ میٹنگ اتحادی حکومت بنانے پر مرکوز تھی۔ واضح رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو افغانستان کی راجدھانی کابل کو قبضے میں لے لیا تھا، اس سے اس کے دشمن اور دوست دوونں حیران رہ گئے تھے۔ طالبان تب سے حکومت سازی کی کوششوں میں مصروف ہے اور وہ اس کا اعلان اب تک نہیں کرسکا ہے۔ تاہم امید کی جارہی ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر طالبان اپنی حکومت کا اعلان کرسکتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: