உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’کسی بھی تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں‘ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تصادم پر ہندوستان کا موقف

    وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان ارندم باغچی

    وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان ارندم باغچی

    Armenia-Azerbaijan border: وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دو طرفہ تنازعات کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaAzerbaijanAzerbaijan
    • Share this:
      آرمینیا-آذربائیجان سرحد (Armenia-Azerbaijan border) پر تازہ لڑائی کے درمیان ہندوستان نے جارح فریق سے فوری طور پر دشمنی بند کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کسی بھی تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان ارندم باغچی (Arindam Bagchi) نے کہا کہ ہندوستان کا ماننا ہے کہ دو طرفہ تنازعات کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔

      وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دو طرفہ تنازعات کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا۔ ہم دونوں فریقوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ دیرپا اور پرامن حل تک پہنچنے کے لیے بات چیت کو آگے بڑھائیں۔ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان اسٹریٹیجک طور پر واقع پہاڑی علاقے نگورنو کاراباخ (Nagorno-Karabakh) پر شدید فوجی تنازعہ چل رہا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      ملکہ الیزابیتھ-دوئم: جب حیدرآباد کے نظام نے ملکہ کو 300 ہیروں سے جڑا ہارپیش کیا، جانئے مکمل کہانی

      باغچی ان حملوں کی اطلاعات پر میڈیا کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے آرمینیا-آذربائیجان سرحد کے ساتھ حملوں کی رپورٹیں دیکھی ہیں، جن میں 12 تا 13 ستمبر کو شہری بستیوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ ہم جارح فریق سے فوری طور پر دشمنی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      ہندوستان۔ سعودی عرب تعلقات میں ہوگی نئی پہل، جے شنکر کی سعودی ولی عہد MbS سے ملاقات

      آرمینیا نے کہا کہ متنازعہ نگورنو کاراباخ علاقے پر آذربائیجان کے ساتھ جھڑپوں میں اس کے 50 کے قریب فوجی مارے گئے۔ نگورنو کاراباخ آذربائیجان کا ایک حصہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم سرحد پر رہنے والے لوگوں کی اکثریت آرمینیائی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آرمینیا نے 1990 کی دہائی میں خطہ کے کچھ حصوں پر قبضہ حاصل کر لیا تھا۔ ستمبر 2020 میں آذربائیجان کی جانب سے بعض علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: