ہوم » نیوز » عالمی منظر

تھریسا مئے کی پریشانیوں میں اضافہ، 10لاکھ بریگزٹ مخالفین کا مظاہرہ

بریگزٹ معاملہ پر وزیر اعظم تھریسا مئے کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 24, 2019 10:57 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تھریسا مئے کی پریشانیوں میں اضافہ، 10لاکھ بریگزٹ مخالفین کا مظاہرہ
تصویر: نیوز18 ڈاٹ کام

بریگزٹ معاملہ پر وزیر اعظم تھریسا مئے کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بریگزٹ مخالفین کا بڑا مظاہرہ ہوا جہاں انہوں نے حکمراں کنزرویٹو پارٹی سے یوروپین یونین سے اخراج کے معاملہ پر ایک مرتبہ پھر ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔


خبررساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق پیپلزووٹ مارچ کا آغاز پارک لین اور دیگر مقامات سے ہوا اور برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچا جہاں آئندہ چند دنوں میں بریگزٹ پر حتمی فیصلہ ہوگا۔ مظاہرین نے یوروپین یونین کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور یونین کے ساتھ برطانیہ کے طویل شراکت داری برقرار رکھنے کے مطالبات درج تھے۔ بریگزٹ مخالف مظاہرے میں برطانیہ بھر کے عوام موجود تھے جو وزیراعظم تھریسامئے کو بریگزٹ سے دست بردار کرنے کے لیے پرعزم تھے۔

لبرل ڈیموکریٹ رہنما وینس نے مظاہرین کی تعداد حیران کن اور متحد قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’یہاں پر ملک بھرسے زندگی کے ہر شعبے اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے اور ملک میں ہم 60 فیصد افراد بریگزٹ کو روکنے کے خواہاں ہیں‘‘۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کی تعداد کے حوالہ سے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی تاہم آزاد ذرائع کے مطابق بریگزیٹ پر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کی تعداد 10 لاکھ تھی۔



دوسری جانب آن لائن پٹیشن میں 40 لاکھ سے زائد افراد نے آرٹیکل 50 کے خلاف ووٹ دیا تھا جو بریگزٹ معاملہ کو مزید گھمبیر بنانے کا باعث بن گیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامئے نے گزشتہ روز اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ بریگزٹ معاہدے کو پارلیمنٹ میں نہ لائیں تاہم دیگر اراکین کا خیال تھا وہ اپنے معاہدے کو اس وقت پارلیمنٹ میں لائیں گی جب اس کی حمایت کرنے والے اراکین کی تعداد زیادہ ہوگی۔
خیال رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں وزیراعظم تھریسامئے کے بریگزیٹ منصوبہ کی مخالفت میں ووٹ پڑے تھے جس کے بعد انہیں اپنے منصوبے پر عمل درآمد میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور طے شدہ وقت تک بریگزٹ ممکن نہ ہوپایا۔
یوروپی یونین اراکین نے برطانیہ کو علیحدگی کے لیے دوڈیڈ لائن دی گئی تھیں اور 22 مئی تک بریگزٹ پر عمل درآمد کیلئے وقت دینے پر اتفاق کیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے کے اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے خط کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔

First published: Mar 24, 2019 10:50 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading