உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Suella Braverman: ہندوستانی نژاد سویلا بریورمین بن پائے گی برطانوی وزیرداخلہ؟ جانیے تفصیلات

    تصویر ٹوئٹر Suella Braverman MP

    تصویر ٹوئٹر Suella Braverman MP

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • INTER, Indiaukukuk
    • Share this:
      برطانیہ میں ہندوستانی نژاد رکن پارلیمنٹ پریتی پٹیل (Priti Patel) نے پیر کے روز لز ٹرس (Liz Truss) کو برطانیہ کا اگلا وزیر اعظم نامزد کیے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی استعفیٰ دے دیا ہے۔ اب یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ایک اور ہندوستانی نژاد قانون ساز سویلا بریورمین (Suella Braverman) ان کی جگہ لے سکتی ہیں۔

      خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دوسری طرف سویلا بریورمین کو نہ صرف پٹیل کی جانشین کے طور پر دیکھا جارہا ہے بلکہ ممکنہ طور پر ٹرس کی کابینہ میں واحد ہندوستانی نژاد قانون ساز ہونے کی وجہ سے کسی مرکزی اور بڑے عہدے کو دیئے جانے کی توقع کی جارہی ہے۔

      42 سالہ سویلا بریورمین فی الحال اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ برطانیہ میں وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں بھی شامل تھیں، لیکن جولائی میں دوسرے راؤنڈ میں باہر ہونے کے بعد انھوں نے لز ٹرس کی تائید کا اعلان کردیا تھا۔

      سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم بورس جانسن کو لکھے گئے خط میں پٹیل نے برطانیہ کے وزیر داخلہ کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ انھوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ ٹرس کی تائید کرے گی۔ 50 سالہ جانسن کے وفادار اور ایم پی پٹیل کو جولائی 2019 میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم نے یوکے ہوم سیکریٹری کے طور پر مقرر کیا تھا۔

      یہ بھی پڑھئے:


      جموں و کشمیر کے شوپیاں میں گولیوں سے چھلنی لاش ملی، جانچ میں پولیس مصروف

      سویلا بریورمین نے کہا تھا کہ لیز اب وزیر اعظم بننے کے لیے تیار ہے۔ وہ کاموں کو بہترین طور پر انجام دیتی ہیں۔ کوئی بھی کام مشکل نہیں، اس کو صحیح طور پر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پارٹی کو چھ سال مشکل سے گزرے ہیں اور اس میں استحکام ضرورت ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Centre tells SC: ’ازدواجی حقوق کےتحفظ کیلئےشوہراور بیوی دونوں ذمہ داری‘ مرکزی حکومت نےحلف نامہ میں کی وضاحت


      پٹیل ان مٹھی بھر وزراء میں سے تھی جن کے حصہ میں ملک کے اعلیٰ محکمے تھے جنہوں نے کنزرویٹو پارٹی کے دو حتمی امیدوار ٹرس یا ہندوستانی نژاد ساتھی رشی سنک میں سے کسی کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: