ہوم » نیوز » عالمی منظر

غزہ کی سرحد پر تین بچوں کی موت: اسرائیل پر فوج کے بیجا استعمال کا الزام

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق تینوں بچوں کی عمریں 13 سے 14 سال تھیں

  • UNI
  • Last Updated: Oct 30, 2018 05:35 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
غزہ کی سرحد پر تین بچوں کی موت: اسرائیل پر فوج کے بیجا استعمال کا الزام
خیال رہے کہ اسرائیلی قبضہ اور مقامی افراد کو بے دخل کرنے کے 70 برس مکمل ہونے کے سلسلے میں فلسطینی عوام 30 مارچ سے مستقل ہفتہ وار احتجاج کر رہے ہیں: فوٹو یو این آئی۔

فلسطین نے غزہ کی سرحد پر اسرائیل کے فضائی حملے، جس میں 3 بچے جاں بحق ہوگئے تھے کے واقعہ کے بعد اسرائیل پر فوج کے بے جا استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے تینوں بچوں پر باڑ کو نقصان پہنچانے اور ممکنہ بم رکھنے کے الزام میں بے جا فوج کا استعمال کرتے ہوئے فضائی حملہ کرنے کا الزام لگایا۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق تینوں بچوں کی عمریں 13 سے 14 سال تھیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ان بچوں نے باڑ کو نقصان پہنچانے اور ممکنہ طور پر اس کے قریب بم رکھنے کی کوشش کی تھی۔


غزہ میں فلسطینی سینٹر برائے انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق کے مطابق تینوں بچے باڑ سے دوسری جانب دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیرامیڈک اسٹاف جنہوں نے غزہ کی سرحد سے بچوں کی لاشیں اٹھائی تھیں نے تصدیق کی کہ بچوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھے۔ انہوں نے بچوں کی عمریں 14 سے 15 سال بتائیں۔


بعد ازاں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے گزشتہ بیان پر قائم رہتے ہوئے مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔ یہ سانحہ ایسے وقت میں پیش آیا جب غزہ کی سرحد پر مہینوں سے جھڑپ اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ وزارت صحت نے جاں بحق بچوں کی شناخت- 14 سالہ خالد ابو سعید، 13 سالہ محمد ابو ظہیر اور 13 سالہ محمد الستاری کے نام سے کی۔ بچوں کا تعلق باڑ سے ایک کلومیٹر دور وادی السلقا سے بتایا گیا ہے جبکہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی آج نماز جنازہ بھی ادا کردی گئی۔


بچوں کے پڑوسی ولید محرب کا کہنا تھا کہ انہوں نے بچوں کو جاتے ہوئے دیکھا تھا، وہ خوش تھے، ہنس رہے تھے اور میں نے انہیں اپنا خیال رکھنے کو کہا تھا۔ بچوں نے کہا تھا کہ وہ پرندے پکڑنے جارہے ہیں۔13 سالہ محمد کے والد ابراہیم الستاری کا کہنا تھا کہ انہوں نے دھماکے کی آواز سنی تھی اور جان گئے تھے کہ وہ مر چکے ہیں تاہم ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ’مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسرائیلی فوج نے میرے بیٹے اور اس کے دوستوں کو کیوں مارا، وہ چھوٹے بچے تھے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’ ’اسرائیلی فوج چاہتی تو وہ انہیں پکڑ بھی سکتی تھی، انہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ کھیل رہے ہیں‘‘


یہ بھی پڑھیں: اس پانچ سالہ اسرائیلی بچی کے بالوں کی دنیا ہو گئی دیوانی


امریکی سفیر نکولے ملادینوو نے جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’ایسے سانحات کو کسی بھی قیمت میں ختم ہونا چاہیے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بچوں کو تحفظ دینا چاہئے، نہ کہ ان پر تشدد کیا جائے یا کسی خطرے میں ڈالا جائے‘‘۔


یہ بھی پڑھیں: اسرائیل میں راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیلی فوج کی جوابی کارروائی میں ایک فلسطینی شہید


خیال رہے کہ اسرائیلی قبضہ اور مقامی افراد کو بے دخل کرنے کے 70 برس مکمل ہونے کے سلسلے میں فلسطینی عوام 30 مارچ سے مستقل ہفتہ وار احتجاج کر رہے ہیں۔ اس دوران اسرائیلی فوج سے ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 218 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ فلسطینی اسنائپر کی فائرنگ سے ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حماس پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر احتجاج میں مظاہرین کو اشتعال دلاتے ہیں تاہم حماس کی جانب سے مستقل اس بات کا انکار کیا جاتا رہا ہے۔

First published: Oct 30, 2018 05:35 PM IST