حافظ سعید معاملے میں تاجرکوچھڑانے کے لئے 'رشوت' لینے کے الزام میں تین این آئی اے افسران کا تبادلہ

این آئی اے نے گزشتہ ماہ چارج شیٹ بھی داخل کی تھی، جس میں حافظ سعید سمیت 7 لوگوں کو یواے پی اے کے تحت مجرمانہ سازش کا قصوروار ٹھہرایا تھا۔

Aug 20, 2019 03:34 PM IST | Updated on: Aug 20, 2019 03:45 PM IST
حافظ سعید معاملے میں تاجرکوچھڑانے کے لئے 'رشوت' لینے کے الزام میں تین این آئی اے افسران کا تبادلہ

حافظ سعید معاملے میں تاجر کو چھڑانےکےلئے'رشوت' لینےکے الزام میں تین این آئی اے افسران کا تبادلہ۔

ممبئی میں 26/11 کوہوئےدہشت گردانہ حملہ کے اہم ملزم حافظ سعید سےمنسلک ایک معاملےسے چھوٹ پانےکےلئے مبینہ طورپر'رشوت' کا دباوبنارہے تین افسران کا ٹرانسفر (تبادلہ) کردیا گیا۔ سبھی افسرقومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) سے وابستہ تھے۔ این آئی اے نے یہ فیصلہ دہلی کے ایک تاجرکی شکایت کے بعد لیا۔ اس میں ایجنسی کے پولیس  سپرنٹنڈنٹ سمیت تین افسران شامل ہیں۔ این آئی اے کےافسران پرالزام ہےکہ وہ اس پر دو کروڑروپئےکی رشوت دینے کادباو بنا رہے تھے۔

فلاح انسانیت فاونڈیشن (ایف آئی ایف) معاملےکی جانچ کررہے ایس پی، پہلےاہم سمجھوتہ دھماکہ اوراجمیرشریف دہشت گردانہ حملہ معاملہ کی جانچ میں شامل تھے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ درج کی گئی شکایت میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر(اے ایس آئی) اورایک فنگرپرنٹ اسپیشلسٹ کا بھی نام لیا گیا تھا اوربعد میں انہیں بی ایس ایف اوراین سی آربی میں واپس ٹرانسفرکردیا گیا۔

Loading...

ڈی آئی جی رینک کا افسرکرے گا جانچ

نیوزایجنسی اے این آئی کےمطابق این آئی اے کےترجمان نےکہا کہ اس معاملے کی جانچ ڈی آئی جی رینک کےافسرکے ذریعہ کی جارہی ہے۔ وہیں منصفانہ جانچ کویقینی بنانےکےلئے تین افسران کا ٹرانسفرکیا گیا ہے۔ ایجنسی نےگزشتہ ماہ ایک چارج شیٹ بھی دائرکی تھی، جس میں اس نے حافظ سعید سمیت 7 لوگوں کوغیرقانونی سرگرمی روک تھام ایکٹ (یواے پی اے) کے تحت مجرمانہ سازش کا قصوروارٹھہرایا تھا۔ دستاویزکےمطابق پاکستان کےایک شہری محمد کامران کو دبئی کےراستے پاکستان سےہندوستان میں پیسہ ٹرانسفرکرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

Loading...