உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کا خوفناک چہرہ آیا سامنے، کھلے عام شخص کو قتل کرکے لٹکا دیا، افغان صحافی حزب اللہ خان نے شیئر کیا ویڈیو

    دل دہلا دینے والا ویڈیو:

    دل دہلا دینے والا ویڈیو:

    اس واقعے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔ اسے افغان صحافی حزب اللہ خان نے ٹویٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 'طالبان نے شہروں میں سرعام سزائے موت دینا شروع کر دی ہے۔ یہ ہیرات کا معاملہ ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل۔ طالبان (Taliban)  کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان  (Afghanistan)  کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ طالبان نے شرعی قوانین کے تحت لوگوں کو وحشیانہ سزا دینا بھی شروع کر دی ہے۔ تازہ ترین تصویر ہیرات کی ہے  جہاں ایک شخص کو طالبان نے قتل کرنے کے بعد سرعام پھانسی پر لٹکا دیا ہے۔

      اس واقعے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔ اسے افغان صحافی حزب اللہ خان نے ٹویٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 'طالبان نے شہروں میں سرعام سزائے موت دینا شروع کر دی ہے۔ یہ ہیرات کا معاملہ ہے۔ (ویڈیو دیکھئیے)



      کابل میں بچے بیچ رہے ہیں کنبے۔۔
      افغانستان کے عوام کو ایک ماہ میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں۔ جی ڈی پی بری حالت میں ہے۔  ملک کے اثاثے پہلے ہی غیر ملکی اداروں اور امریکہ نے منجمد کر رکھے ہیں۔ اقوام متحدہ پہلے ہی افغانستان میں بھوک مری سے لوگوں کی موت کا اعلان کر چکا ہے۔ ایسے میں کابل میں غریب خاندان اپنے بچے بیچنے پر مجبور ہیں۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔



      ویڈیو میں کیا ہے؟
      یہ ویڈیو افغان صحافی حزب اللہ خان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ، افغانستان کا یہ افسوسناک منظر، لوگ غربت کی وجہ سے اب اپنے بچے بیچنے کو مجبور ہیں۔ اس میں ایک شخص اپنی گود میں بچے کو پکڑ رہا ہے اور دوسرے ہاتھ میں بچے کا ہاتھ پکڑ رہا ہے۔ وہ پختون میں کچھ بڑبڑا کر رہا ہے۔ اس دوران ایک عورت زمین پر بیٹھی نظر آرہی ہے جو برقعے میں ہے۔ وہ شاید اس آدمی کی بیوی ہے۔ ایک آدمی اپنی گود کا بچہ اپنی بیوی کو دیتا ہے۔

      کون ہے حزب اللہ خان؟
      حزب اللہ خان افغانستان کے سینئر صحافی ہیں۔ ان کے عالمی اخبارات جیسے یروشلم پوسٹ ، دی انڈیپنڈنٹ ، دی گلوب پوسٹ ، دی ڈپلومیٹ میں مضامین شائع ہوتے ہیں۔ وہ افغانستان کے تازہ ترین حالات پر مسلسل دنیا کے تمام بڑے اخبارات کو رپورٹس بھیج رہے ہیں۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: