ہوم » نیوز » عالمی منظر

ٹرمپ نے کیوبا کے انقلابی رہنما اور سابق صدر کاسترو کو ظالم آمر قرار دیا

واشنگٹن۔ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کے انقلابی رہنما اور سابق صدر فیدل کاسترو کو ’ظالم آمر‘ قرار دیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 27, 2016 03:27 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ٹرمپ نے کیوبا کے انقلابی رہنما اور سابق صدر کاسترو کو ظالم آمر قرار دیا
واشنگٹن۔ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کے انقلابی رہنما اور سابق صدر فیدل کاسترو کو ’ظالم آمر‘ قرار دیا ہے۔

واشنگٹن۔ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کے انقلابی رہنما اور سابق صدر فیدل کاسترو کو ’ظالم آمر‘ قرار دیا ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ کیوبا کے عوام اب اپنے آزاد مستقبل کی جانب بڑھیں گے۔ واضح رہے کہ کیوبا کے سابق صدر اور کمیونسٹ انقلاب کے سربراہ فیدل کاسترو 90 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی یک جماعتی حکومت نے کیوبا پر تقریباً نصف صدی تک حکومت کی اور انہوں نے 2008 میں اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو کو منتقل کر دیا۔ ان کے مداحین ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ انھوں نے کیوبا واپس عوام کو سونپ دیا۔ تاہم ان کے مخالفین ان پر حزب اختلاف کو سختی سے کچلنے کا الزام لگاتے ہیں۔ صدر راؤل کاسترو نے رات گئے سرکاری ٹیلی وژن پر ایک غیر متوقع خطاب میں بتایا کہ فیدل کاسترو انتقال کر گئے ہیں اور ان کی آخری رسومات سنیچر کو ادا کی جائیں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کیوبا ایک مطلق العنان جزیرہ ہے، میں امید کرتا ہوں کہ آج کے دن سے وہ اس خوف سے آگے بڑھیں گے جو انھیں نے طویل عرصے تک جھیلے ہیں، اور بہترین کیوبن عوام بالآخر مستقبل کی جانب بڑھیں گے اور آزادی کے ساتھ رہ سکیں گے جس کے وہ مستحق ہیں۔‘

خیال رہے کہ صدر اوباما کے دور میں امریکہ اور کیوبا کے درمیان سفارتی تعلقات 2015 میں کئی دہائیوں کے بعد بحال ہوئے تھے۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اس پر تنقید کیا تھا لیکن اپنے حالیہ بیان میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ جو کچھ کر سکے، کرے گی تاکہ کیوبا کے لوگوں کا ’آزادی اور خوشحالی کی جانب سفر کو یقینی بنایا جاسکے‘۔ دوسری جانب صدر اوباما کا کہنا ہے کہ تاریخ ’کاسترو کے بے پناہ اثر کو پرکھے گی اور یاد رکھے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ’کیوبا کے عوام کی جانب دوستی کا ہاتھ‘ بڑھا رہا تھا۔ فیدل کاسترو کا شمار بیسویں صدر میں طویل ترین عرصہ تک برسراقتدار رہنے والے حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے 2006 میں صحت کی خرابی کے باعث عارضی طور پر اپنے بھائی کو اقتدار سونپا تھا۔ تاہم دو سال بعد ان کے بھائی راؤل کاسترو باقاعدہ طور پر کیوبا کے صدر بن گئے تھے۔ فیدل کاسترو نے ایک طویل زندگی پائی اور بالآخر انہوں نے یہ وقت بھی دیکھا جب واشنگٹن نے ہوانا کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے مارچ 2016 میں کیوبا کا دورہ کیا۔ فیدل کاسترو 13 اگست 1926 کو پیدا ہوئے۔ ایام نوجوانی میں وہ کیوبا کے اس وقت کے آمر فلگینسیو بتستا کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کی قیادت کرنے والے ایک رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے ایک گوریلا فورس کی بھی قیادت کی جس نے بالآخر بتستا کی فوج کو شکست دے دی اور 1959 میں کیوبا کا اقتدار سنبھال لیا۔


ان کے فاتحانہ انداز میں ہوانا میں داخل ہونے پر دنیا کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو گئی تاہم انہو ں نے جلد ہی ملک میں کیمونزم نظام نافذ کر دیا جس کے بعد ان کا ملک سویت یونین کے زیر اثر ممالک کے بلاک میں شامل ہو گیا ۔ کیوبا میں جمہوریت کے لیے کام کرنے والے ایک سرگرم کارکن فرینک کالزون کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے کیوبا کے عوام سے کئی وعدے کیے۔‘

’ کیوبا کے شہریوں کو آزادی ملے گی ان کو ایک ایماندار حکومت ملے گی۔ ملک میں آئین کا نفاذ ہو گا۔ اس کی بجائے انہوں نے ایک اسٹالن پرست حکومت قائم کر دی۔‘ 1961 میں امریکہ نے کیوبا کے جلاوطن شہریوں کے گروپ کے ذریعے کیوبا میں مداخلت کی۔ تاہم کاسترو کی فورسز نے ’بے آف پگز‘ کے مقام پر حملہ آوروں کو شکست دے دی ۔ ان کی آخری رسومات سنیچر کو ادا کی جائیں گی جبکہ چار دسمبر تک ملک میں سرکاری سطح پر سوگ منایا جائے گا جب ان کے جسدخاکی کو نذر آتش کرنے کے بعد اس کی راکھ کو جنوب مشرقی شہر سان تیاگو میں دفن کیا جائے گا۔ امریکہ کے حمایت یافتہ کیوبا کے جلاوطنوں کی ملک میں مداخلت، بڑی طاقتوں کے میزائل کے بحران، ان کو قتل کرنے کی کئی سازشوں اور کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی امریکی تعزیرات کے باوجود فیدل کاسترو کی کیمونسٹ حکومت کا اقتدار برقرار رہا۔

First published: Nov 27, 2016 03:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading