ہوم » نیوز » عالمی منظر

چین اور ترکی نے اپنے اختلافات بھلا کر دہشت گردی سے لڑنے کا کیا عہد

ہانگ زو (چین)۔ چینی صدر شی جن پنگ اور ان کے ترک ہم منصب طیب اردوغان نے دہشت گردی سے مقابلے میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 03, 2016 03:45 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
چین اور ترکی نے اپنے اختلافات بھلا کر دہشت گردی سے لڑنے کا کیا عہد
ہانگ زو (چین)۔ چینی صدر شی جن پنگ اور ان کے ترک ہم منصب طیب اردوغان نے دہشت گردی سے مقابلے میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

ہانگ زو (چین)۔  چینی صدر شی جن پنگ اور ان کے ترک ہم منصب طیب اردوغان نے دہشت گردی سے مقابلے میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ قبل ازیں ترک نژاد مسلم اقلیت کے ساتھ چین کے سلوک کے معاملہ پر دونوں ملکوں کے کافی اختلافات تھے جنہیں فی الحال فراموش کردیا گیا ہے۔ سینکڑوں بلکہ غالباً ہزاروں ایغور لوگ چین کے مغربی علاقہ سنکیانگ کے شورش زد ہ حالات سے بچنے کے لئے خفیہ طور سے جنوب مشرقی ایشیا کے راستے ترکی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ  اپنے مذہب پر چلنے اور ثقافتی طور پر آزادی محسوس کرتے ہیں۔ انہیں وہاں کے ماحول سے ہم آہنگی محسوس ہوتی ہے۔


چین کا کہنا ہے کہ بہت سے ایغور آخرکار عراق اور شام میں جنگجوؤں کے ساتھ لڑنے پہنچ گئے ہیں۔ تاہم انقرہ حکومت کا کہنا ہےکہ وہ چین میں مذہبی ظلم و ستم سے بچنے کے لئے ہجرت کرنے والوں کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے گا۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہےکہ چین میں جو شورش ہے اس کی وجہ حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ردعمل ہے۔ سنکیانگ میں افسران نے مذہبی شناخت ظاہر کرنے والی علامتوں جیسے برقعہ اور داڑھی پر سخت پابندی لگارکھی ہے۔


ترکی نے ماہ رمضان میں ایغور لوگوں کے نماز روزہ پر پابندی لگانے کی خبروں پر ناراضگی ظاہر کی تھی جس سے چین خفا ہوگیا تھا ۔ ترک مظاہرین نے ایغور لوگوں کے ساتھ چین کے سلوک کے معاملہ پر چینی سفارتخانہ تک مارچ کی تھی۔ دونوں ملکوں کا ایغور مہاجروں کو تھائی لینڈ سے چین واپس بھیجنے پر بھی اختلاف ہے۔ چین اس بات کو ماننے سے انکار کرتا ہے کہ ایغور آبادی کو مذہبی آزادی نہیں دیتا۔ مشرقی چینی شہر میں جی۔20 کانفرنس کے موقع پر شی زن پنگ نے اردگان سے کہا کہ وہ اس بات کے لئے ترکی کے متعرف ہیں کہ وہ اپنے علاقہ کو چین کو نقصان پہنچانے والی حرکتوں کے لئے استعمال نہیں کرنے دے گا ۔ شی نےکہا ’’امید ہے کہ دونوں فریق ‘‘دہشت گردی مخالف تعاون کے معاملہ میں اچھے نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔


اردوگان نے کہا کہ دہشت گردی سے لڑنا ایک طویل مدتی معاملہ ہے ۔ دونوں ملکوں کو اس کے لئے اپنے تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اردگان نے ترکی کی سلامتی اور استحکام میں مدد کے لئے چین کا شکریہ ادا کیا۔ چین سنکیانگ کے حالیہ تشدد کے لئے مسلم جنگجوؤں خصوصاً مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔


First published: Sep 03, 2016 03:45 PM IST