ہوم » نیوز » عالمی منظر

فوجی بغاوت کے دوران اردوغان کو اٹھا کر لے جانے کی کوشش کرنے والے 11مفرورکمانڈرپکڑے گئے

استنبول۔ ترک خصوصی فورسز نے ان 11 مفرور کمانڈوز کو پکڑ لیا ہے جنہوں نے پچھلے ماہ ناکام فوجی بغاوت کے دوران صدر طیب اردغان کو اٹھاکر لے جانے کی کوشش کی تھی۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 01, 2016 04:59 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
فوجی بغاوت کے دوران اردوغان کو اٹھا کر لے جانے کی کوشش کرنے والے 11مفرورکمانڈرپکڑے گئے
فائل فوٹو

استنبول۔  ترک خصوصی فورسز نے ان 11 مفرور کمانڈوز کو پکڑ لیا ہے جنہوں نے پچھلے ماہ ناکام فوجی بغاوت کے دوران صدر طیب اردغان کو اٹھاکر لے جانے کی کوشش کی تھی۔ یہ اطلاع سرکاری اناتولیہ نے دی ہے۔ یہ گیارہ فوجی اس گروپ کا حصہ ہیں جس نے 15 جولائی کی شب مارمیرس کے اس ہوٹل پر حملہ کیا تھا جہاں اردگان چھٹیاں منارہے تھے۔ مگر صدر کو خبر مل گئی تھی کہ ان کی جان خطرے میں ہے اس لئے وہ ان کی آمد سے پہلے ہی وہاں سے بھاگ گئے تھے۔


انہیں پکڑنے سے قبل ترک حکومت نے بغاوت کے بعد فوج پر گرفت بہت سخت کردی ہے۔1400 کے قریب فوجیوں کو برطرف کردیا ہے۔ ان مفرور کمانڈوز کو مگلا صوبہ کے اولا ضلع سے پکڑا گیا ہے۔ مقامی مخبری ہونے کے بعد خصوصی افواج کو ہیلی کاپٹروں اور ڈرون کے ساتھ وہاں بھیجا گیا تھا۔ ان کے وہاں پہنچنے کے بعد مفرور کمانڈوز کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی ہوئیں مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کمانڈوز کو علاقہ تھانہ لے جانے سے قبل ایک چوکی میں رکھا گیا تھا۔ اس  دوران درجنوں لوگوں نے وہاں مظاہرہ کیا۔


بتایا جاتا ہے کہ اردگان کو مارمیرس سے اٹھا کر لے جانے کی کارروائی میں 37فوجی ملوث تھے۔ ان میں سے 25کو پہلے ہی پکڑا جاچکا ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد سے حکومت نے بڑے پیمانے پر دھڑپکڑکی ہے۔ اب تک فوج، عدلیہ، سول سروس اور اسکولوں سے 60ہزار سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے، معطل کیا گیا ہے یا ان کے خلاف تفتیش شروع کی گئی ہے۔ اس سے ترکی کے ناٹو اتحادی خفا ہیں اور انقرہ حکومت کے مغرب کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اسلامی مبلغ فتح اللہ گولن پر فوجی بغاوت کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے جو امریکہ میں اپنی مرضی سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ تاہم وہ الزامات کی تردید کرتے ہیں اور بغاوت کی مذمت کرتے ہیں۔

First published: Aug 01, 2016 04:59 PM IST