ہوم » نیوز » عالمی منظر

آیا صوفیہ میں 86 برس بعد نماز جمعہ ادا کی گئی، آیا صوفیہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے خلاف ایتھنز میں مظاہرہ

ترک میڈیا کے مطابق آیا صوفیہ مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر اطراف میں لوگوں کی زبردست بھیڑ کی وجہ سے مسجد کے احاطے میں مزید افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 25, 2020 09:33 AM IST
  • Share this:
آیا صوفیہ میں 86 برس بعد نماز جمعہ ادا کی گئی، آیا صوفیہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے خلاف ایتھنز میں مظاہرہ
تقریباً ڈیڑھ ہزار لوگوں بشمول ترک صدر رجب طیب اردغان نے نماز جمعہ ادا کی۔

استنبول۔ ترک دارالحکومت کی معروف عبادت گاہ آیا صوفیہ میں 86 برس بعد کل نماز جمعہ ادا کی گئی۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار لوگوں بشمول ترک صدر رجب طیب اردغان نے نماز جمعہ ادا کی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ترک میڈیا کے مطابق آیا صوفیہ مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر اطراف میں لوگوں کی زبردست بھیڑ کی وجہ سے مسجد کے احاطے میں مزید افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔


واضح رہے کہ آیا صوفیہ کی عمارت جو پہلے کلیسا تھی، 1500 برس پرانی ہے جہاں ہر سال 30 لاکھ سیاح آتے ہیں۔ یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول کے دور میں بنائی گئی تھی اور تقریباً 1000 سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ نے 1453 میں اسے مسجد میں بدل دیا تھا۔ 1934 میں مصطفٰی کمال اتاترک کے دور حکومت میں اسے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا اور اِس وقت یہ عمارت اقوام متحدہ کے ورلڈ ہیریٹیج فہرست میں بھی شامل ہے۔


ایتھنز میں آیا صوفیہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج


وہیں، یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں تاریخی آیا صوفیہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف بہت سے لوگوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرے کے منتظمین کے مطابق، ایتھنز میں تقریباً 500سے زائد لوگوں نے آیا صوفیہ چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کے خلاف جمعہ کے روز سڑکوں پر آکر مظاہرہ کیا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی تعداد صرف 250 تھی۔ مظاہرے کے دوران مظاہرین نے ایتھنز کے آرک بشپ اور آل یونان ایرانوموس II کا ایک بیان پڑھا ، جس میں انہوں نے ایک تاریخی چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کی مذمت کی تھی۔ ترک سپریم انتظامی عدالت ، کونسل آف اسٹیٹ نے ، حقیقت میں جولائی کے اوائل میں آیا صوفیہ کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے 1934 کے فیصلہ کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا ، یعنی اب اسے مسجد کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اس فیصلہ کی حمایت کی ہے۔ تاہم اس فیصلے پر پوری دنیا میں منفی ردعمل سامنے آیا ہے اور یونانیوں میں اس چرچ کے لئے اس کی ایک خاص تاریخی اہمیت ہے۔ اس جمعہ کو آیا صوفیہ میں 1934 کے بعد پہلی بار نماز اداکی گئی جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 25, 2020 09:33 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading