உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Turkey-Greece Tension:ایردوان نے یونان کو دی دھمکی،کہا-ترکی کے جہازوں کو پریشان کیا تو چکانی ہوگی بھاری قیمت

    ترک صدر ایردوان نے گریس کو دی بھاری قیمت چکانے کی دھمکی۔

    ترک صدر ایردوان نے گریس کو دی بھاری قیمت چکانے کی دھمکی۔

    Turkey-Greece Tension: دفاعی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دشمنانہ ماحول ہونے کے باوجود ترکی کے جہاز اپنا مشن پورا کر کے اپنے تھکانوں پر لوٹ گئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Hyderabad
    • Share this:
      Turkey-Greece Tension:ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے یونان(Greece) کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایجین پر ترکی کے جہازوں کو پریشان کرنا جاری رکھتا ہے تو اسے بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ اس سے پہلے 31 اگست کو ترکی کے صدر ایردوان نے دھمکی دی تھی کہ گریس سال 1922 کی طرح ہی غلطی کررہا ہے۔ ایردوان نے کہا تھا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یونانی سیاستداں، جنہوں نے ایک صدی پہلے اپنے ہی لوگوں اور ملک کو آفت میں مبتلا کردیا تھا، وہ آج بھی اسی غلطی کو دوہرارہے ہیں۔

      انگریزی نیوز ویب سائٹ یونانی رپورٹر کے مطابق وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کریٹے جزیرے پر نصب یونان کے S-300 میزائل سسٹم نے 23 اگست کو ترکی کے لڑاکا طیاروں پر حملے کی تمام تیاریاں کر لی تھیں۔ ایجنسی کے مطابق ترکی کے F-16 لڑاکا طیارے یونان کے مغربی روڈز جزیرے کے قریب 10 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہے تھے جب روسی ساختہ S-300 میزائل سسٹم نے انہیں نشانہ بنانے کے لیے اپنے ریڈار پر لے لیا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Russia Ukraine War:اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے کہا-نیوکلیئرپلانٹ میں روس نے کی چھیڑچھاڑ

      یہ بھی پڑھیں:

      UK Elections:فائنل انتخابی پروگرام میں رشی سونک نے کیا والدین اور بیوی سے اظہار تشکر

      Pakistanمیں سیلاب سے بن گئی 100کلو میٹر کی جھیل، سیٹلائٹ تصاویر میں نظر آئی تباہی

      ’ناٹو کے قوانین کے تحت دشمنی کارروائی ہوتی‘
      انادلو نے دفاعی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دشمنانہ ماحول ہونے کے باوجود ترکی کے جہاز اپنا مشن پورا کر کے اپنے تھکانوں پر لوٹ گئے۔ خبر کے مطابق، جہازوں کو رڈار پر ل ینے کو ناٹو کے قوانین کے تحت دشمنانہ کارروائی مانا جاتا۔ اس بارے میں جب انقرہ میں واقع یونانی سفارتخانے سے اتوار 28 اگست کو رابطہ کیا گیا تو وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: