உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اردغان نے کہا۔ امریکی پابندیوں سے فکرمند نہیں، شام میں اپنی مہم جاری ركھیں گے

    ترکی کے صدر رجب طیب اردغان: فائل فوٹو

    ترکی کے صدر رجب طیب اردغان: فائل فوٹو

    بتا دیں کہ امریکہ نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر ترکی شمال مشرقی شام میں اپنی مہم کو آگے بڑھاتا ہے تواسے مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      انقرہ۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ وہ امریکی پابندیوں سے فکرمند نہیں ہیں اور وہ شمالی شام میں اپنی مہم کو جاری رکھیں گے۔ اردغان نے منگل کو کہا’’جب تک مہم تمام مقرر ہ مقاصد کو حاصل نہیں کر لیتی، یہ جاری رہے گی۔ ہمارا مقصد واضح ہے۔ ہم امریکی پابندیوں سے فکر مند نہیں ہیں۔ ہمارا مقصد سر حد سے 32 کلومیٹر اندر واقع دہشت گردوں کو ختم کرنے کا ہے‘‘۔ ہم نے علاقے میں تال میل کے لئے امریکہ اور روس کے ساتھ بات چیت فی الحال روک دی ہے۔
      اردغان نے کہا’’میں نے کل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہئے لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے۔ میں نے ٹرمپ سے ایک وفد بھیجنے کے لئے کہا تاکہ ہم ہر چیز پر بحث کر سکیں‘‘۔

      قابل ذکر ہے کہ پیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شمال مشرقی شام کے خلاف فوجی حملوں کو روکنے اور فوری طور پر جنگ بندی کے لئے ترکی پر دباؤ ڈالنے کے واسطے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کئے تھے۔ امریکہ نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر ترکی شمال مشرقی شام میں اپنی مہم کو آگے بڑھاتا ہے تواسے مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
      First published: