مصرکےسابق صدر محمد مرسی سپرد خاک، رجب طیب اردوغان نے'شہید' قراردیتے ہوئےمصرکےظالموں کوبتایا موت کا ذمہ دار 

اخوان المسلمین نے اپنی ویب سائٹ پردنیا بھرمیں لوگوں سے مصرکے سفارت خانوں کے سامنےجمع ہوکراحتجاج کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

Jun 18, 2019 10:28 PM IST | Updated on: Jun 18, 2019 10:38 PM IST
مصرکےسابق صدر محمد مرسی سپرد خاک، رجب طیب اردوغان نے'شہید' قراردیتے ہوئےمصرکےظالموں کوبتایا موت کا ذمہ دار 

مصر کے سابق صدرمحمد مرسی سپرد خاک۔

Loading...

مصرکے سابق صدرمحمد مرسی کی نمازہ جنازہ طرہ جیل کی مسجد میں ادا کی گئی۔ مرسی کومغربی قاہرہ میں دفن کیا گیا۔ محمد مرسی کے ایک وکیل عبدالمنعم عبدالمقصود نے بتایا  کہ محمد مرسی کومنگل کی صبح دارالحکومت قاہرہ کےمغربی ضلع نصرسٹی میں واقع ایک قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا ہے۔ وہیں ترکی کے صدررجب طیب اردوغان نے محمد مرسی کی موت کا ذمہ دارمصرکے ظالموں کو قراردیتے ہوئے انہیں شہید بتایا ہے۔

محمد مرسی کے صاحبزادے احمد مرسی نے اپنے فیس بک پیج پرلکھا  کہ مصر کی حکومت نےانہیں اپنے والد کی میت آبائی صوبے شرقیہ لے جانے کی اجازت دینے سے انکارکردیا تھا جس کے بعد انہیں قاہرہ میں ہی اخوان المسلمین کے دیگرسینئر قائدین کے پہلومیں دفن کردیا گیا۔ احمد مرسی نےالزام لگایا کہ مصرکی حکومت نےلوگوں کوسابق صدرکی نمازِجنازہ اور تدفین میں شرکت سے بھی روکا اور صرف خاندان کے چند افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی۔ محمد مرسی کے اہلِ خانہ نے  ان کی موت کوقتل قراردیا ہے۔

سابق صدرکے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ 2013ء سے مسلسل قید میں تھے جس کے دوران انہیں کئی سال تک قیدِ تنہائی میں بھی رکھا گیا اورانہیں ڈاکٹروں تک رسائی نہیں دی گئی۔مصرمیں حزبِ اختلاف کی کالعدم جماعت اخوان المسلمین نے  بھی سابق صدرمحمد مرسی کی موت کو قتل قراردیا ہے۔اپنی ویب سائٹ پرجاری ایک بیان میں اخوان  المسلمین نے دنیا بھرمیں لوگوں سے مصرکے سفارت خانوں کے سامنے جمع ہو کراحتجاج کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی مصرکی حالیہ تاریخ میں جمہوری طورپرمنتخب ہونے والے پہلےصدرتھے، جوپیرکواپنے خلاف جاری ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں انتقال کرگئے تھے۔

مصرکے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 67 سالہ سابق صدرکو پیرکی قاہرہ کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کے خلاف فلسطینی تنظیم 'حماس' کے ساتھ رابطوں اور اس کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات میں مقدمے کی سماعت تھی۔ عدالتی ذرائع نے بتایا  کہ انتقال سے قبل محمد مرسی نے کمرۂ عدالت میں جج کو مخاطب کرکے کئی منٹ تک خطاب کیا جس کے فوراً بعد وہ گرگئےاور بے ہوش ہوگئے۔ انہیں فوری طورپراسپتال منتقل کیا گیا، جہاں  ڈاکٹروں نےانہیں مردہ قراردیا۔ اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے محمد  مرسی نے 2012ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ مصرکےپہلے منتخب صدر تھے۔ 2013ء میں ملکی فوج نے ان کا تختہ الٹ دیا تھا۔ امکان ہے کہ محمد مرسی کے دورانِ حراست موت کے نتیجے میں مصر کی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ انسانی حقوق کی دومعتبر بین الاقوامی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اورایمنسٹی انٹرنیشنل  نے محمد مرسی کی موت پرمصرکی حکومت کوسخت تنقید کا نشانہ بنایا ہےاوران کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ت

بیورو رپورٹ نیوز18 اردو

Loading...