اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ٹویٹر کے سی ای او ایلون مسک کو قتل کیے جانے کا خطرے، ٹویٹر اسپیس پر ٹویٹر کے مالک کو دھمکی!

     ایلون مسک

    ایلون مسک

    ماسک نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مستقبل میں تقریر (اظہار رائے کی آزادی) کو دبایا نہیں جائے گا اور لوگ انتقامی کارروائیوں کے خوف کے بغیر اپنی بات کہہ سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک آپ واقعی کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا رہے ہیں، تب تک آپ کو وہ کہنے کی اجازت ہونی چاہیے جو آپ چاہتے ہیں یا کہنا چاہتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • USA
    • Share this:
      ٹویٹر کے سی ای او ایلون مسک (Elon Musk) نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں قتل کیے جانے کے خطرہ لاحق ہے۔ گزشتہ ہفتے کے شروع میں ٹویٹر اسپیسز پر دو گھنٹے کی سوال و جواب کی آڈیو چیٹ کے دوران انہیں قتل کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ ایلون مسک نے کہا کہ میں بہت تفصیل سے اس بارے میں نہیں بتاسکتا۔ مجھے اس معاملہ کو اسی طرح رکھنے دیں۔ سچ کہوں تو میرے ساتھ کچھ برا ہونے کا یا لفظی طور پر گولی مار دیے جانے کا خطرہ کافی اہم ہے۔

      انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی کو مارنا چاہتا ہے تو یہ اتنا مشکل نہیں ہے اور امید ہے کہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سی ای او نے کہا کہ انہیں خطرات کا سامنا ہے کیونکہ وہ ایسے مستقبل کی امید رکھتے ہیں جہاں کسی پر ظلم نہ ہو۔

      ماسک نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مستقبل میں تقریر (اظہار رائے کی آزادی) کو دبایا نہیں جائے گا اور لوگ انتقامی کارروائیوں کے خوف کے بغیر اپنی بات کہہ سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک آپ واقعی کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا رہے ہیں، تب تک آپ کو وہ کہنے کی اجازت ہونی چاہیے جو آپ چاہتے ہیں یا کہنا چاہتے ہیں۔

      مسک نے ٹویٹر سنبھالنے کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ماہر نفسیات ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن، مزاح نگار کیتھی گرفن، طنزیہ ویب سائٹ Babylon Bee اور rapper Kanye West سمیت پہلے سے معطل کیے گئے اکاؤنٹس کو بحال کیا ہے۔ جس کی وجہ سے بھی صارفین اپنے غصہ کا اظہار کررہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ان لوگوں کو عام معافی کی پیشکش کریں گے جن پر ٹویٹر نے پابندی عائد کی تھی لیکن شرط یہ ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی نہ کیے ہوں اور نہ ہو اسپام میں ملوث ہوں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: