اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ٹویٹر کے قانونی ایگزیکٹو کو بھی کیا گیا پیدل! ایلون مسک کا اعلان، آخر کیا ہے وجہ؟

    مسک ابھی تک کمپنی کے اسٹاف میں 50 فیصد تک کی کمی کرچکے ہیں۔

    مسک ابھی تک کمپنی کے اسٹاف میں 50 فیصد تک کی کمی کرچکے ہیں۔

    اکتوبر میں 44 بلین ڈالر میں ٹویٹر حاصل کرنے کے بعد مسک نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ سوشل نیٹ ورک تقریر و اظہار خیال کے لیے کم پابندی والا طریقہ اختیار کر رہا ہے۔ اس میں پچھلی انتظامیہ کے تحت کمپنی کی پالیسیوں پر تنقید شامل ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • USA
    • Share this:
      ایلون مسک نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ٹویٹر انکارپوریشن (Twitter Inc) کے ڈپٹی جنرل کونسل جم بیکر (Jim Baker) کو کمپنی سے باہر کا راستہ دیکھایا گیا ہے۔ مسک نے کہا کہ اہم معلومات کو راز میں رکھنے کے برخلاف بیکر کے ممکنہ کردار کے بارے میں خدشات پیش کیے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے عوامی مکالمے میں مشکلات درپیش آسکتی ہیں۔ انہیں آج ٹویٹر سے باہر کردیا گیا ہے۔

      مسک کا تبصرہ نام نہاد ٹویٹر فائلوں کے ساتھ بیکر کی شمولیت کے حوالے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان دستاویزات میں ہنٹر بائیڈن کے لیپ ٹاپ کے بارے میں نیویارک پوسٹ کی اسٹوری تک رسائی کو روکنے کے فیصلے سے متعلق میلس شامل تھیں، اسے گزشتہ ہفتے صحافی میٹ تائبی (Matt Taibbi) نے شائع کی تھیں۔ منگل کو ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ بیکر کی برطرفی ٹوئٹر فائلرس کے پہلے بیچ کی جانچ کرنے سے ہوئی ہے۔ بیکر پہلے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے جنرل کونسلر تھے، انھوں نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

      یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک کے ٹوئٹر کے سی ای او بننے کے بعد سے، ایک کے بعد ایک تبدیلی کرتے جارہے ہیں۔ مسک ابھی تک کمپنی کے اسٹاف میں 50 فیصد تک کی کمی کرچکے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ٹوئٹر میں کچھ نئے فیچر بھی جوڑ رہے ہیں۔ ایسے میں امید کی جارہی ہے، کہ مسک ٹوئٹر پر غلط اور اشتعال انگیز ٹوئٹ کرنے والوں کے لیے ورچول جیل کا فیچر لاسکتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      اکتوبر میں 44 بلین ڈالر میں ٹویٹر حاصل کرنے کے بعد مسک نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ سوشل نیٹ ورک تقریر و اظہار خیال کے لیے کم پابندی والا طریقہ اختیار کر رہا ہے۔

      اس میں پچھلی انتظامیہ کے تحت کمپنی کی پالیسیوں پر تنقید شامل ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: