اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کیا اب ٹویٹر کی تصدیق کے عمل کو بہتر بنایا جائے گا؟ ایلون مسک نے دیا یہ جواب، جانیے تفصیلات

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک

    مسک کا جواب ایک ٹویٹر تھریڈ پر آیا جب ایک ٹیک وینچر کیپٹلسٹ سری رام کرشنن نے لکھا کہ اب جب کہ بات ختم ہوگئی ہے: میں ٹویٹر کے ساتھ کچھ دوسرے عظیم لوگوں کے ساتھ عارضی طور پرمسک کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایک بہت اہم کمپنی ہے اور وہ ایسا کر سکتی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, Indiausausausausa
    • Share this:
      ہمیشہ یہ توقع کی جاتی تھی کہ جب دنیا کا امیر ترین شخص دنیا کے سب سے بڑے سوشل نیٹ ورکس میں سے ایک کو اپنے قبضے میں لے لے گا تو اس میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ ایسا لگتا ہے کہ اب یہ ایک حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ ایلون مسک کے ٹویٹر پر چارج سنبھالنے کے بعد ہر روز نئی تفصیلات آ رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ کی تصدیق ہوچکی ہے، باقی تفصیلات آتی جارہی ہے۔ ایسے صارفین جو مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کو استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے اس طرح کی تبدیلیاں جاننے ضروری ہے۔

      اب 51 سالہ ٹیک ارب پتی نے کہا ہے کہ تصدیق کے عمل (verification process) میں بھی تبدیلیاں ہوں گی۔ ایک صارف کے جواب میں مسک نے ٹویٹر پر لکھا کہ اس وقت تصدیق کے پورے عمل کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ مائیکروبلاگنگ سائٹ پر بلیو ٹک ایک عرصے سے پسند کیا جا رہا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مسک اس عمل میں کیا تبدیلیاں لاتے ہیں۔

      یہ کون انجام دے گا؟

      مسک کا جواب ایک ٹویٹر تھریڈ پر آیا جب ایک ٹیک وینچر کیپٹلسٹ سری رام کرشنن نے لکھا کہ اب جب کہ بات ختم ہوگئی ہے: میں ٹویٹر کے ساتھ کچھ دوسرے عظیم لوگوں کے ساتھ عارضی طور پرمسک کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایک بہت اہم کمپنی ہے اور وہ ایسا کر سکتی ہے۔ دنیا پر اس کا بہت اثر ہے اور ایلون ہی ایسا شخص ہے جو کہ یہ انجام دے سکتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      اس کے بعد ایک صارف نے ان سے پوچھا کہ تصدیق میں مدد کرنے کا کوئی موقع ہے؟ میری فوٹو گرافی کے ذریعے عوام کو اسپیس فلائٹ/راکٹ لانچوں کی تصاویر شیئر کرنے میں مدد ملے گی۔ اب تک ٹوئٹر نے اعلیٰ انتظامی سطح پر تبدیلیاں کی ہیں۔ مسک 44 بلین ڈالر کی ڈیل مکمل ہونے سے پہلے ہی مہینوں سے ویب سائٹ پر بوٹ استعمال کرنے والوں کا مسئلہ اٹھے رہے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: