اپنا ضلع منتخب کریں۔

    صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں دو کار بم دھماکے،کم ازکم 100 افراد ہلاک،300سے زائد زخمی

    صومالیہ کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پولیس کے ترجمان صادق دودیش نے بتایا کہ دو کار بم دھماکے ہوئے

    صومالیہ کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پولیس کے ترجمان صادق دودیش نے بتایا کہ دو کار بم دھماکے ہوئے

    یہ دھماکے وزارت تعلیم کے باہر پیش آئے۔ صومالیہ کے صدر حسن شیخ نے ایک بیان میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 300 افراد زخمی ہوئے ہیں۔دراصل صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں سنیچر 29 اکتوبر کو دو کار بم دھماکے ہوئے، جن میں 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی جب کہ اب ہلاکتوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Inter, IndiaMogadishuMogadishu
    • Share this:
      صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں دو کار بم دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ دھماکے وزارت تعلیم کے باہر پیش آئے۔ صومالیہ کے صدر حسن شیخ نے ایک بیان میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 300 افراد زخمی ہوئے ہیں۔دراصل صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں سنیچر 29 اکتوبر کو دو کار بم دھماکے ہوئے، جن میں 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی جب کہ اب ہلاکتوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی ہے۔ ساتھ ہی اب تک کسی دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

      صومالیہ کے صدر نے اس دہشت گرد تنظیم کو ذمہ دار ٹہرایا


      صدر حسن شیخ محمود نے اس حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار دہشت گرد تنظیم الشباب پر عائد کیا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کے صدر دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے لیے تمام اعلیٰ حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں

      صومالیہ کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پولیس کے ترجمان صادق دودیش نے بتایا کہ دو کار بم دھماکے ہوئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافیوں کو جائے وقوعہ سے کئی لاشیں ملی ہیں۔ امین ایمبولینس سروس کے ڈائریکٹر نے اے پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ انہوں نے متعدد زخمیوں یا ہلاک ہونے والوں کو اکٹھا کیا ہے۔ عبدالقادر عدن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ دوسرے دھماکے میں ایک ایمبولینس تباہ ہو گئی۔

      اسپتال کے کارکن نے میڈیا کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد اسپتال میں 30 افراد کی لاشیں لائی گئیں جن میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ اس کے ساتھ ہی اب یہ تعداد 100 تک پہنچ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 5 سال قبل اس مقام پر بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: