உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روہنگیا مسلمانوں کے قتل پر رپورٹ تیار کر رہے دو صحافیوں کو عدالت نے سنائی 7 سال کی سزا

    رائٹرز نامہ نگار وا لون اور کیاو سوئے او رخائن صوبہ میں روہنگیا مسلمانوں کے ہراساں کرنے اور قتل کے درجنوں واقعات پر رپورٹ تیار کر رہے تھے۔

    رائٹرز نامہ نگار وا لون اور کیاو سوئے او رخائن صوبہ میں روہنگیا مسلمانوں کے ہراساں کرنے اور قتل کے درجنوں واقعات پر رپورٹ تیار کر رہے تھے۔

    میانمار کے ایک جج نے رائٹرز کے دو صحافیوں کو آفیشیل سیکریٹ ایکٹ کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے سات سال جیل کی سزا سنائی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      میانمار کے ایک جج نے رائٹرز کے دو صحافیوں کو آفیشیل سیکریٹ ایکٹ کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے سات سال جیل کی سزا سنائی ہے۔ رائٹرز نامہ نگار وا لون اور کیاو سوئے او رخائن صوبہ میں روہنگیا مسلمانوں کے ہراساں کرنے اور قتل کے درجنوں واقعات پر رپورٹ تیار کر رہے تھے۔

      جج اے لوین نے عدالت میں کہا، "چونکہ انہوں نے رازداری قانون کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے، اس لئے دونوں کو سات سال جیل کی سزا سنائی جا رہی ہے۔" عدالت کے اس حکمنامہ کو میڈیا کی آزادی پر حملہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

      دراصل ان صحافیوں کو دو پولیس اہلکاروں سے ملاقات کے بعد 12 دسمبر 2017 کی رات کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سرکاری وکیل کے مطابق، ان پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور سے انہیں خفیہ دستاویزات سونپے تھے۔

      اس کیس کی تحقیقات 9 جنوری سے شروع ہوئی اور الزام 9 جولائی کو رسمی طور پر درج کرایا گیا تھا۔ ان دونوں کو تبھی سے ضمانت کے بغیر حراست میں رکھا گیا تھا اور عدالت کے سامنے تقریبا 30 بار پیش کیا گیا۔
      First published: