உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UAE نے نافذ کیا نیا لیبر قانون، جانیے ہندوستانی ورکرز کو کیسی ملیں گی سہولیت؟

    نیا وفاقی حکمنامہ قانون نمبر 33 کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

    نیا وفاقی حکمنامہ قانون نمبر 33 کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

    حکومت نے تمام نجی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ نئے قانون کے مطابق نئے معاہدوں کا مسودہ تیار کریں۔ قانون نافذ ہونے کے ایک سال کے اندر کمپنیوں کو اپنے ملازمت کے معاہدے تبدیل کرنے ہوں گے۔ نئے قانون کے تحت اب کوئی بھی آجر ہمیشہ کے لیے کسی مزدور کو ملازمت پر نہیں رکھ سکے گا۔

    • Share this:
      ابوظہبی:متحدہ عرب امارات(United Arab Emirates)میں رہنے والے ہندوستانیوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ 2 فروری سے ملک میں نیا لیبر لا (UAE New Labour Law) نافذ ہو گیا ہے۔ نئے قانون میں ورکروں کو نئے حقوق دیے گئے ہیں۔ ہندوستانی شہری متحدہ عرب امارات کی معیشت میں اہم شراکت دار ہیں۔ ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ نئے قانون سے ہندوستانی کارکنوں کو بھی بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔

      ہندوستانی ملک کی کل آبادی کا 40 فیصد ہیں اور ان کی تعداد 35 لاکھ ہے۔ ہندوستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد متحدہ عرب امارات کے نجی شعبے میں کام کرتی ہے۔ نیا وفاقی حکمنامہ قانون نمبر 33 کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت انسانی وسائل نے کہا کہ نئے قانون کے مطابق اب ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کی معلومات ملازمت کے معاہدے میں شامل کی جائیں گی۔

      نئے کانٹریکٹ میں ہوگی ہر جانکاری
      نئے معاہدے میں کارکن، اس کے آجر، ملازمت کی تفصیل، کام کے اوقات، چھٹیاں، شمولیت کی تاریخ، کام کی جگہ، تنخواہ، سالانہ چھٹی، نوٹس کی مدت سمیت ہر معلومات شامل ہوں گی۔ گلف نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے وکیل علی موسٰی نے کہا کہ نئے قانون سے اب ملازمت کا معاہدہ محدود مدت کے لیے ہو گا، جو پہلے ایسا نہیں تھا۔ کمپنیاں اب زیادہ سے زیادہ تین سال کے لیے ورکرز رکھ پائیں گی۔ اس کے بعد اسے دوبارہ تجدید کرنا پڑے گا۔

      ہفتے میں کم سے کم ملے گی ایک چھٹی
      حکومت نے تمام نجی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ نئے قانون کے مطابق نئے معاہدوں کا مسودہ تیار کریں۔ قانون نافذ ہونے کے ایک سال کے اندر کمپنیوں کو اپنے ملازمت کے معاہدے تبدیل کرنے ہوں گے۔ نئے قانون کے تحت اب کوئی بھی آجر ہمیشہ کے لیے کسی مزدور کو ملازمت پر نہیں رکھ سکے گا۔ مصعب نے کہا کہ اب مزدوروں کو بھی کچھ نئی چھٹیاں ملیں گی۔ کمپنیوں کو اپنے ملازمین کو ہر ہفتے کم از کم ایک چھٹی دینی ہوگی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: