ہوم » نیوز » عالمی منظر

مغرب کے مسلمان مقامی معاشرے کا حصہ بننے کی کوشش کریں: یو اے ای

اماراتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو فرانسیسی صدر کی تقریر کو توجہ سے سننا چاہئے کیونکہ میکرون مغرب میں موجود مسلمانوں کو الگ تھلگ نہیں کرنا چاہتے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 03, 2020 06:13 PM IST
  • Share this:
مغرب کے مسلمان مقامی معاشرے کا حصہ بننے کی کوشش کریں: یو اے ای
فرانس میں چرچ پرحملہ، 3 لوگوں کا قتل، خاتون کا سرکاٹا: فائل فوٹو

ابو ظبی۔ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی فرانسیسی تائید سے پیدا متنازعہ ماحول میں متحدہ عرب امارات نے یہ تجویز پیش کر دی ہے کہ مغرب کے مسلمان وہاں کے معاشرے کا حصہ بننے کی کوشش کریں۔

امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے اس موقف سے اتفاق کیا ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں پر مغربی معاشروں میں 'انضمام' کی ضرورت پر زور دیا ہے۔


الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اماراتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو فرانسیسی صدر کی تقریر کو توجہ سے سننا چاہئے کیونکہ میکرون مغرب میں موجود مسلمانوں کو الگ تھلگ نہیں کرنا چاہتے۔ جرمن روزنامہ ڈائی ویلٹ سے ایک بات چیت میں انور قرقاش نے فرانسیسی صدر کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف جہاں فرانس کو انتہا پسندی کے مقابلے میں متوازی طریقوں کی تلاش کا پورا حق ہے، وہیں دوسری جانب مغربی ممالک کے مسلمان وہاں کے معاشرے میں ضم ہو کر خود کو بہتر طریقے سے متحد کر سکتے ہیں۔


فرانس کے صدر کے خلاف ان الزامات کو بھی قرقاش نے مسترد کردیا کہ میکرون فرانس میں مقیم مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ یورپ میں فرانس مسلم اقلیتی آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 50 لاکھ یا اس سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ واضح رہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے تعلق سے فرانسیسی صدر پر اہانت رسول کی حمایت اور اسے آزادی اظہار رائے کے تناظر میں دیکھنے کا الزام ہے۔


واضح رہے کہ فرانس میں گزشتہ دنوں ایک شخص کے ذریعہ سیموئل پیٹی نام کے استاد کا قتل کئے جانے کا حادثہ پیش آیا تھا۔ اس کے دو ہفتے کے اندر یہاں نیس شہر کے نوترے دام بیسلکا چرچ میں گزشتہ جمعرات کو ایک اور دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ جنوب فرانس کے نیس شہر میں ایک ٹیونشیائی شخص آیا اور چرچ میں گھس کر کچھ لوگوں پر چاقووں سے حملہ کردیا۔ اس حادثہ میں تین لوگوں کی موت ہوگئی اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ معاملہ چرچ میں کیا گیا۔ چرچ کے اندر مرنے والے لوگوں میں ایک 60 سالہ خاتون ہے، جس کا سر تقریباً اسی طرح کاٹ کر الگ کردیا گیا جیسے ٹیچر سیموئل پیٹی کا کردیا گیا تھا۔ ایک دیگر 55 سالہ شخص کا گلا کاٹ کر الگ کردیا گیا۔ مہلوکین میں سے مرد چرچ کے رکھ رکھاو کا کام کرتا تھا۔ مرنے والوں میں 44 سال کی ایک دیگر خاتون بھی تھی، جو کئی بار چھرا گھونپے جانے کے بعد پاس کے ایک کیفے میں بھاگنے میں کامیاب رہی، لیکن بعد میں اس کی موت ہوگئی۔ ایک مشتبہ مرد کو گولی مارکر حراست میں لے لیا گیا تھا۔


Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 03, 2020 06:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading