ہوم » نیوز » عالمی منظر

نیویارک : مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ٹویٹس کرنے پراوبر اور لائفٹ نے امریکی خاتون پر لگائی پابندی

امریکا میں ٹرک حملے کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ٹوئٹس کرنے پر ٹیکسی سروس ’اوبر‘ اور ’لائفٹ‘ نے امریکی خاتون پر پابندی عائد کردی۔

  • Agencies
  • Last Updated: Nov 03, 2017 01:11 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نیویارک : مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ٹویٹس کرنے پراوبر اور لائفٹ نے امریکی خاتون پر لگائی پابندی
امریکا میں ٹرک حملے کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ٹوئٹس کرنے پر ٹیکسی سروس ’اوبر‘ اور ’لائفٹ‘ نے امریکی خاتون پر پابندی عائد کردی۔

نیویارک: امریکا میں ٹرک حملے کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ٹوئٹس کرنے پر ٹیکسی سروس ’اوبر‘ اور ’لائفٹ‘ نے امریکی خاتون پر پابندی عائد کردی۔امریکی میڈیا کے مطابق انتہاپسند امریکی خاتون لورا لومر نے نیویارک میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر ٹوئٹ کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ ٹیکسی سروس انتظامیہ انتہاپسند افراد کو بطور ڈرائیور شامل کررہے ہیں، مسلمانوں کے لئے خاص قسم کا فارم تیار کیا جانا چاہئے کیونکہ میں مزید کسی مسلمان انتہاپسند ڈرائیور کی حمایت نہیں کرسکتی۔

لورالومر نے اپنے ٹوئٹ کے ساتھ ایک تصویربھی شیئرکی جس میں لکھا کہ جس جگہ دہشتگردی ہوئی وہاں مسلمان خواتین حجاب میں آزادی کے ساتھ تفریح کر رہی ہیں۔’اوبر‘ کے ترجمان میٹ کالمین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لورا لومر نے ٹیکسی سروس کے قوائد اور ضوابط کی خلاف ورزی اور سوشل میڈیا کے ذریعے کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگائی جارہی ہے۔

دوسری جانب لائفٹ کے ترجمان اسکاٹ کورئیر کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز بیان پر لائفٹ انتظامیہ نے سارا لومر کا لائفٹ اکاؤنٹ بھی بند کردیا گیا ہے۔ اب وہ ان کی ٹیکسی سروس استعمال نہیں کرسکیں گی۔واضح رہے کہ دو روز قبل نیویارک کے مصروف علاقے مین ہٹن میں ایک ازبک تارک وطن نے راہ گیروں پر ٹرک چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے تھے۔

First published: Nov 03, 2017 01:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading