உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UK PM Race:برٹین کے پی ایم کی دوڑ میں ہندوستانی نژاد رشی سونک کی بڑی کامیابی، پہلے راونڈ کی ووٹنگ میں رہے اول

    برطانیہ کے اگلے وزیراعظم بننے کی دوڑ:ہندوستانی نژاد رشی سوناک کو پہلے راونڈ میں ملے سب سے زیادہ ووٹ۔

    برطانیہ کے اگلے وزیراعظم بننے کی دوڑ:ہندوستانی نژاد رشی سوناک کو پہلے راونڈ میں ملے سب سے زیادہ ووٹ۔

    وزراء کے استعفوں کے بعد دباؤ میں آنے والے بورس جانسن نے حال ہی میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد 42 سالہ سنک نے اپنی مہم کا آغاز کیا۔

    • Share this:
      UK PM Race:لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں ووٹنگ کے پہلے مرحلے کے بعد ہندوستانی نژاد رشی سنک 88 ووٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ اس وقت سنک کے علاوہ پانچ اور دعویدار وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ برطانیہ کے نئے وزیر اعظم موجودہ وزیر اعظم بورس جانسن کی جگہ حکمران کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ہوں گے۔

      بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سنک کے علاوہ وزیر خارجہ لز ٹرس، وزیر تجارت پینی مورڈینٹ، سابق کابینہ وزیر کیمی بیڈنوک، ایم پی ٹام اور برطانوی کابینہ کے اٹارنی جنرل سویلا بریورمین بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔

      کس کے کتنے ووٹ ہیں؟
      ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں پینی کو 67، لِز کو 50، کیمی کو 40، ٹام ٹوگینڈاٹ کو 37 اور سویلا بریورمین کو 32 ووٹ ملے۔ بتا دیں کہ ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں باقی آٹھ امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔ نئے وزیر خزانہ ندیم زہاوی کو 25 ووٹ ملے جب کہ جیریمی ہنٹ کو صرف 18 ووٹ ملے۔ ایسے میں دونوں وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔

      دوسرے راؤنڈ میں جانے کے لیے کم از کم 30 ممبران پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرنی ہوتی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کے پارلیمنٹ میں 358 ارکان ہیں۔ سنک کو 88 ممبران پارلیمنٹ نے ووٹ دیا ہے۔ جمعرات کو دوسرے مرحلے کی پولنگ کے بعد آخری دو امیدواروں کا مرحلہ وار انتخاب کیا جائے گا۔ برطانیہ کے نئے وزیراعظم کا انتخاب 5 ستمبر کو ہوگا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      UK New PM: رشی سونک سے پینی مورڈانٹ تک، برطانیہ میں نیا وزیر اعظم بننے کی دوڑ

      یہ بھی پڑھیں:
      Information to ISI:پاکستانی کالم نگارکا اعتراف،ISIکودیتاتھاہندوستان دورے کی ہر جانکاری

      بورس جانسن دے چکے ہیں استعفیٰ
      وزراء کے استعفوں کے بعد دباؤ میں آنے والے بورس جانسن نے حال ہی میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد 42 سالہ سنک نے اپنی مہم کا آغاز کیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں ایک مثبت مہم چلا رہا ہوں جس کی توجہ اس بات پر ہے کہ میری قیادت سے پارٹی اور ملک کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: