உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوروپ میں جنگ کا خطرہ ہوگا کم! یوکرین بحران کے حل کےلئے میکرون کی پوتن سے ملاقات

    روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون۔

    روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون۔

    روس نے کہا ہے کہ وہ یوکرین یا کسی اور سابق سوویت ملک کو نیٹو(NATO) میں شمولیت سے روکنے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ روس نے خطے میں ہتھیاروں کی تعیناتی کو روکنے اور مشرقی یورپ سے نیٹو افواج کے انخلاء کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ امریکہ اور نیٹو (US-NATO) نے روس کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔

    • Share this:
      ماسکو:یوکرین(Ukraine) پر جاری تعطل کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مشقیں پیر کو تیز ہو گئیں۔ فرانس (France) کے صدر ایمانوئل میکرون (Emmanuel Macron) ماسکو (Moscow)میں اور جرمنی(Germany) کے چانسلر اولاف شولز(Olaf Scholz) واشنگٹن میں بات چیت کر رہے ہیں۔ یوکرین کی سرحد پر تقریباً 100,000 روسی افواج کی تعیناتی نے مغربی ممالک کے خدشات کو جنم دیا ہے، جو اسے ممکنہ حملے کے آغاز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم روس نے اپنے پڑوسی ملک پر حملے کے کسی بھی منصوبے کی تردید کی ہے۔

      روس نے کہا ہے کہ وہ یوکرین یا کسی اور سابق سوویت ملک کو نیٹو(NATO) میں شمولیت سے روکنے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ روس نے خطے میں ہتھیاروں کی تعیناتی کو روکنے اور مشرقی یورپ سے نیٹو افواج کے انخلاء کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ امریکہ اور نیٹو (US-NATO) نے روس کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ نے ایک وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس چند دنوں میں یوکرین (Russia-Ukraine Tensions) پر حملہ کر سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا میں تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

      فرانس کے رول کو لے کر روس نے کی تعریف
      ایمانوئل میکرون نے کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن (Vladimir Putin) سے بات چیت کے دوبارہ شروع ہونے پر تناؤ کو کم کرنے پر زور دیا۔ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کو ایک ممکنہ پہلا قدم قرار دیتے ہوئے، انھوں نے کہا، ’’بات چیت ضروری ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ واحد چیز ہے جس سے یورپی براعظم میں سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔‘‘ ساتھ ہی پوٹن نے فرانس کے کردار کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی یہ بات چیت ایسے دن ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان 30 سال ہوئے ہیں۔ آج سے تیس سال پہلے دونوں ملکوں نے دوستی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

      میکرون نے بائیڈن سے کی بات
      میکرون نے اتوار کو ماسکو روانگی سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن(Joe Biden) سے فون پر بات کی۔ وائٹ ہاؤس (White House) کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی سرحدوں پر روس کی فوجی تعیناتی اور یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے ان کی حمایت کے جواب میں جاری سفارتی اور روک تھام کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔‘ اعلیٰ سطحی سفارت کاری کو جاری رکھتے ہوئے جرمن چانسلر اولف نے کہا۔ سکولز 14-15 فروری کو کیف اور ماسکو کا دورہ کریں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: