உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine Crisis:امریکہ نے یوکرین کو بھیجے 80 ٹن ہتھیار، اب کیا کرے گا روس؟

    امریکہ اور یورپی یونین نے یوکرین کی سرحد (Ukrain Border) پر روسی فوج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ (AP)

    امریکہ اور یورپی یونین نے یوکرین کی سرحد (Ukrain Border) پر روسی فوج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ (AP)

    یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنکوف (Ukrainian Defence Minister Oleksii Reznikov) نے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے ٹویٹ کیا اور لکھا کہ آج دو امریکی طیارے 80 ٹن سے زیادہ بارود کے ساتھ بوریسپل ایئرپورٹ(Boryspil Airport) پر اترے۔ یوکرائنی فوج (Ukrainian Army) کے ذرائع کے حوالے سے آر بی ایس یوکرین نے کہا کہ امریکہ یوکرین کو مجموعی طور پر 45 طیارہ ہتھیار فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    • Share this:
      کیف: یوکرین(Ukraine) اور روس(Russia) کے درمیان جاری تعطل کے درمیان امریکہ(US) یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بدھ کو دو امریکی فوجی طیارے ہتھیاروں کے ساتھ یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچے۔ امریکی طیاروں نے یوکرین کو 80 ٹن سے زیادہ وزنی ہتھیار فراہم کیے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے فوجی طیارے اب تک ایسے 10 طیاروں میں ہتھیاروں کے ساتھ یوکرین سے رابطہ کر چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کے اس اقدام کے بعد روس کیا کرے گا۔

      یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنکوف (Ukrainian Defence Minister Oleksii Reznikov) نے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے ٹویٹ کیا اور لکھا کہ آج دو امریکی طیارے 80 ٹن سے زیادہ بارود کے ساتھ بوریسپل ایئرپورٹ(Boryspil Airport) پر اترے۔ یوکرائنی فوج (Ukrainian Army) کے ذرائع کے حوالے سے آر بی ایس یوکرین نے کہا کہ امریکہ یوکرین کو مجموعی طور پر 45 طیارہ ہتھیار فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

      غورطلب ہے کہ حالیہ ہفتوں میں یوکرین کے ارد گرد کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے یوکرین کی سرحد پر روسی فوج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہی نہیں، نیٹو نے اتحادیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کیف کے لیے اپنی فوجی مدد میں اضافہ کریں۔

      پوتن نے دی یہ وارننگ
      اس درمیان، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ اگر کیف نے نیٹو میں شمولیت اختیار کی تو یوکرین پر جاری کشیدگی کے درمیان ایٹمی جنگ ہو جائے گی۔ پوٹن نے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب روس نے پولینڈ کی سرحد کے قریب جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے مگ 31 کو تعینات کیا ہے۔ روس نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ پوٹن اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان بات چیت کے دوران یوکرین پر کوئی معاہدہ طے پایا تھا۔

      سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روس اور بیلاروس اس مشق کے ذریعے یوکرین اور مغرب کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ جنگ کے بارے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ اس مشق میں روس کے 30 ہزار فوجی، S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم اور 12 سکھوئی-35 لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: